کیا امریکہ عاصم منیر اور شہباز شریف کا داخلہ بند کر دے گا ؟

پاکستان میں آزادانہ انتخابات، جمہوری اداروں کے استحکام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امریکی ایوان میں بل پیش کر دیا گیا۔ امریکی ایوان میں پیش کردہ بل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب پاکستانی حکام پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یوتھیے تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ایوان میں پیش کردہ بل کی منظوری نہ صرف شہباز شریف حکومت کے بعض ذمہ داران کی امریکہ آمد و رفت پر پابندیاں لگ سکتی ہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ تاہم غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی ایوان میں کسی بل کا پیش ہونا یا اس کی منظوری براہِ راست پابندی کا باعث نہیں بنتی، کیونکہ کوئی بھی بل اُس وقت تک قانون نہیں بنتا جب تک امریکی صدر اس کی توثیق نہ کر دیں۔ موجودہ حالات میں امریکی صدر کے حوالے سے یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کر کے تعلقات میں کشیدگی کا کوئی خطرہ مول لیں۔
خیال رہے کہ امریکی کانگریس میں "پاکستان فریڈم اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ” کے نام سے بل متعارف کروایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے والے پاکستانی اہلکاروں پر پابندیاں بارے بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کی مشترکہ حمایت حاصل ہے۔ بل کو ہاؤس سب کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے چیئرمین، ریپبلکن رکن بل ہوی زینگا اور ڈیموکریٹ رہنما سڈنی کاملاگر-ڈَو نے پیش کیا ہےجبکہ کئی دیگر قانون سازوں نے بھی اس بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بل نہ صرف پاکستان میں آزادان اور شفاف انتخابات کی حمایت کی تجدید کرتا ہے بلکہ ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اُن پاکستانی حکام پر پابندیاں عائد کریں جو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا بدعنوانی میں ملوث پائے جائیں۔ یہ پابندیاں حکومت، فوج یا سکیورٹی اداروں کے موجودہ اور سابق اعلیٰ عہدیداروں پر بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔
امریکی ایوان میں پیش کردہ بل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی ریپلکن رکن بل ہوی زینگا کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ایسے افراد کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا جو پاکستان کی حکومت، فوج یا سکیورٹی فورسز میں رہتے ہوئے انسانی حقوق کی صریحا خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوتے ہیں یا انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ دوسری جانب کاملاگر ڈَو کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا فروغ اور انسانی حقوق کا تحفظ امریکی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول ہیں۔ پاکستان سے متعلق پالیسی میں یہ پہلو مرکزی حیثیت رکھنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بل کی منظوری کے بعد جو لوگ پاکستان میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کو نقصان پہنچاتے ہیں یا انسانی حقوق پامال کرتے ہیں، انہیں عالمی سطح پر محفوظ پناہ گاہ نہیں ملے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پاکستانیوں کے آئینی حقوق بارے امریکہ میں قانون سازی پاکستانی عوام کو بااختیار بنانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ امریکی ایوان میں پیش کردہ بل کانگریس میں اوورسیز پاکستانیوں کی انتھک وکالت اور کمیونٹی کی گراس روٹس مہم کا نتیجہ ہے۔ یہ اقدام حقیقی آزادی، جمہوریت اور پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔
مبصرین کے بقول امریکی ایوان میں پیش کردہ بل کی فوری منظوری کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ ابھی یہ بل مزید نظرثانی کے لیے امریکی ایوان کی خارجہ امور اور آئینی کمیٹیوں کو بھیجا گیا ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ اس بل کو دو جماعتی حمایت حاصل ہے اس لیے اس کے کانگریس میں آگے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدر اس بل پر دستخط کرکر کے اسے قانون میں تبدیل کریں گے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن میں بل پیش ہونا یا منظور ہونا فوری طور پر کسی عملی اقدام کی ضمانت نہیں دیتا جبکہ موجودہ جغرافیائی و سفارتی حالات میں فی الحال وائٹ ہاؤس کا پاکستان پر براہِ راست دباؤ ڈالنا یا کسی بھی طرح کی پابندیاں عائد کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
