نواز شریف کیخلاف، شجاعت اور زرداری نے ہاتھ ملا لیا؟

 

مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے مل کر آگے چلنے اور آئندہ انتخابات میں مشترکہ امیدوار سیاسی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی مبصرین ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو بنیادی طور پر مسلم لیگ ن کو آئندہ الیکشن میں ٹف ٹائم دینے کے کڑی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کی مسلم لیگ ق کے سر براہ چودھری شجاعت حسین کے مابین سیاسی مفاہمت اور انتخابی اتحاد کے فیصلے کے بعد اگلے مرحلے میں یہ سلسلہ وسیع ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے بعض ذرائع یہ دعوی بھی کر رہے ہیں کہ ن لیگ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے زرداری اور چودھری شجاعت کا ہاتھ ملانا، خاص طور پر پنجاب کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکز مجلس عاملہ سی ای سی نےنگراں حکومت میں پیپلز پارٹی کو در پیش مسائل اور مبینہ یک طرفہ اقدامات جیسی شکایات کے ازالے کیلئے پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کو اس ضمن میں نواز شریف سمیت تمام سابق اتحادی قائدین سے مذاکرات کر کے مسئلہ حل کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ جس کے بعد آصف علی زرداری ایک بار پھر ملکی سیاست میں ممتحرک ہو چکے ہیں اور انھوں نے کھل کر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے نہ صرف نواز شریف سمیت پی ڈی ایم کی قیادت سے رابطوں بلکہ انتخابی عمل میں سازگار ماحول اور دیگر معاملات کے بارے میں بھی امور طے کرنے کا اختیار آصف زرداری کو دیا ہے۔ اس میں انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسمنٹ بھی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی انتخابی عمل میں بہتر نتائج کیلئے مقامی وسیاسی دوستانہ پالیسی کو جاری رکھنے کے حق میں ہے۔ مسلم لیگ ق کے سر براہ چودھری شجاعت حسین سے حالیہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم اس کی تفصیلات دونوں جانب سے جاری نہیں کی گئیں جس کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سےمختلف اندازے لگائے جارہے ہیں۔  ذرائع کے مطابق دونوں قائدین کی مابین ملاقات میں سیاسی مفاہمت، انتخابی اتحاد اور ماضی قریب کے سیاسی اتحادیوں میں پیدا ہونے والی دوریاں، خاص طور پر مسلم لیگ ن کے رویے اور عمران حکومت کی سیاسی امتیازی پالیسی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق اتحادیوں میں سے جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن کسی سیاسی مغالطے کا شکار ہوچکی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ پیپلزپارٹی کو کارنر کرکے اور نگراں حکومت کے اقدامات کی مدد سے الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کر سکتی ہیں ۔ حالانکہ گراس روٹ لیول پر یہ خیال اس کے برعکس ہے۔ اگر ان کا خیال درست ہے تو نواز شریف کی وطن واپسی پر لاہور میں بڑی استقبالی ریلی کے بجائے صرف مینار پاکستان پر اجتماع کی باتیں نہ ہوتیں۔ پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق سنہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو نظرانداز کیاگیا جو اس وقت تو خاموش رہا تاہم یہ ووٹ بینک اب بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد کی صورت میں یہ ووٹ بینک نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ اس لیے آصف زرداری سیاسی تعاون اور اتحاد کے حوالے سے چودھری شجاعت حسین کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق انہی سیاسی حالات اور مستقبل کا منظر نامہ سامنے رکھتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے آصف علی زرداری کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ نواز شریف سے بات کریں گے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آصف زرداری اور چودھری شجاعت کی ملاقات میں مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی کے سیاسی انتخابی اتحاد کے معاملہ میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین نے سابق صدر آصف زرداری کو کو (ن )لیگ سے محاذ آرائی فوری بند کرنے کو کہا۔چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ اس وقت ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا، ملکی صورتحال کے پیش نظر تمام جماعتوں کو مل کر چلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ اتحادیوں کے مابین محاذ آرائی اور بیان بازی کے حوالے سے جلد میاں نواز شریف سے بھی بات کریں گے ۔ اس موقع پرسابق صدر آصف علی زرداری کاکہنا تھا کہ  پیپلزپارٹی کی جانب سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں کی جارہی ، ہم جو بھی بات کرتے ہیں وہ آئین کے مطابق اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔محاذ آرائی ہماری طرف  سے نہیں ہورہی،شاید ن لیگ اب ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتی۔

دریں اثنا پیپلزپارٹی ہی کے ایک سینئر رہنما نے تسلیم کیا ہے کہ نگران حکومت کے اقدامات بارے پارٹی کی شکایات درست ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کا سندھ میں گراف نئی نسل کے ایسے رہنماؤں کو پارٹی میں آگے لانے اور فوقیت دینے سے گرا ہے، جن پر کرپشن کے عوامی سطح پر الزامات عام ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت اس طرف دھیان نہیں دے رہی اور اس کے الیکشن پر ممکنہ اثرات بھی دوسروں کے کھاتے میں ہی ڈالنا چاہتی ہے۔ آصف زرداری کی چودھری شجاعت حسین سے ملاقات اور مستقبل میں نواز شریف سے ممکنہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سیاسی ملاقاتیں معمول کا عمل ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے بہتر سیاسی مستقبل کے لئے دوسری جماعتوں سے رابطے کرتی ہے۔ جہاں تک نگراں حکومت اور مسلم لیگ ن سے شکایات کا تعلق ہے، تو یہ درست ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کی وزارت عظمی کے دوران بھی سیاسی اختلاف رائے ہو جاتا تھا اور یہ غیر معمولی بات نہیں۔ دو بھائیوں میں یا اتحادیوں میں اختلاف رائے ہو جانا بھی کوئی بڑی بات نہیں ۔ جہاں تک نواز شریف اور آصف علی زرداری سے ممکنہ ملاقات کے نتائج کا سوال ہے تو سیاسی مذاکرات ایشو زحل ہونے ہی کی نیت اور امید سے کیے جاتے ہیں اور ہم اچھی امید رکھتے ہیں۔ سیاسی مفاہمت ہمارا نصب العین ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن سر دست پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی کمٹمنٹ کرتی دکھائی نہیں دیتی اور خود کواونچی اڑ ان پر محسوس کر رہی ہے۔ تا ہم آنے والے حالات انہیں کسی مرحلے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعدآئندہ 5 چیف جسٹس کون ہوں گے؟

پر اکٹھا بٹھا بھی سکتے ہیں۔

Back to top button