آصف زرداری، فریال تالپور کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

احتساب عدالت نے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس میں آصف زرداری اور فریال تالپو رسمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کےلئے 9 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس پرسماعت کی سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت تمام ملزمان پر9 ستمبر کو تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے ایک روز کےلیے حاضری سے استثنی کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
فاضل عدالت نے ریفرنس میں ملزمان پرفرد جرم عائد کرنے کےلیے تاریخ مقرر کردی تھی جس کے تحت سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت تمام ملزمان پر 9 ستمبر کو تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاﺅنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کےلیے مالی معاونت میں غبن کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں نیب کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے 3 ارب 77 کروڑ روپے کے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔
جعلی اکاﺅنٹس کیس 2015 کے جعلی اکاﺅنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے ہے، جس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی گئیں اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاﺅنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔ اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جب کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔
بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔ 15 مارچ 2019 کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل 2019 تک کے لیے ملتوی کی تھی اور 9 اپریل 2019 کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاﺅنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔
