بالآخر DG ISI ندیم انجم کی جانب سے ‘جٹ دا کھڑاک’ ہو گیا

پاکستان کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے میڈیا کے سامنے نہ آنے کے اپنے ہی فیصلے پر یو ٹرن لیتے ہوئے نہ صرف ایک پریس کانفرنس کر ڈالی بلکہ اس میں عمران خان کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کے جھوٹ پر مبنی سیاسی بیانیہ کے بخیے بھی ادھیڑ کر رکھ دیے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے دست راست فیض حمید کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی بننے والے ندیم احمد انجم نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ فیض احمد کی زیر قیادت مکمل طور پر متنازع ہو جانے والی ایجنسی کو غیر سیاسی کریں گے اور میڈیا کے سامنے بھی نہیں آئیں گے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کے دوران ماضی میں سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث رہنے والی آئی ایس آئی کے افسران کو سختی سے سیاست سے دور رہنے کا حکم دیا تھا۔ بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے تمام متعلقہ حلقوں کو بتا دیا تھا کہ کسی بھی سرکاری اجلاس کے دوران کھینچی گئی اُن کی تصاویر یا بنائی گئی ویڈیو پرنٹ اور الیکٹرانک میں جاری نہ کی جائے۔
لیکن بطور آئی ایس آئی سربراہ اپنی تعیناتی کے ایک برس بعد عمران خان کی جانب سے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کا مدعا فوج اور آئی ایس آئی پر ڈالنے کے باعث ندیم انجم منظر عام پر آنے پر مجبور ہو گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ندیم انجم نے کہا کہ وہ اپنی خاطر نہیں بلکہ اپنے ادارے کی خاطر میڈیا کے سامنے آئے ہیں چونکہ جھوٹ کا بیانیہ لیکر چلنے والوں کی جانب سے آخری حدیں بھی پار کی جا رہی ہیں۔ ندیم احمد انجم نے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ آپ سب مجھے اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہیں، میری ذاتی تصاویر اور تشہیر پر میری پالیسی ایک سال سے واضح ہے جس پر میں اور میری ایجنسی سختی سے پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے اور میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا ہے، لیکن آج کا دن کچھ مختلف ہے، آج میں اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے ادارے کے لیے آیا ہوں، جس کے جوان دن رات اس وطن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، پوری دنیا میں پاکستان کی دفاع کا ہراول دستہ بن کر کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ان جوانوں کو جھوٹ کی بنیاد پر بلا جواز تضحیک اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لہٰذا اس ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے میں خاموش نہیں رہ سکتا، جب ایک جانب سے جھوٹ اتنی روانی سے بولا جائے کہ ملک میں فساد کا خطرہ ہو تو سچ کی طویل خاموشی بھی ٹھیک نہیں ہے، میں کوشش کروں گا کہ بلا ضرورت سچ نہ بولوں، قوم نے میرے منصب اور مجھ پر یہ بوجھ ڈالا ہے کہ میں ان رازوں کو اپنے سینے میں لے کر قبر میں چلا جاؤں لیکن جہاں ضرورت محسوس ہوگی میں وہ راز آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ اپنے جوانوں اور شہدا کا دفاع کر سکوں۔
عمران خان کی جانب سے آرمی چیف بارے مسلسل لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ندیم انجم نے کہا کہ میں یہ ضرور پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ آپ کا سپہ سالار غدار ہے اور میر جعفر ہے تو ماضی میں آپ اسکی اتنی تعریفوں کے پُل کیوں باندھتے تھے، اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ آپکا سپہ سالار غدار ہے اور میر جعفر ہے تو آپ اس کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں دے رہے تھے؟ ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک جانب موصوف سمجھتے ہیں کہ سپہ سالار غدار ہے اور میرجعفر ہے لیکن دوسری جانب وہ جنرل باجوہ کو ساری زندگی بطور آرمی چیف برقرار رہنے کی آفر بھی کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ آفر میری موجودگی میں کی گئی اور میں اس کا گواہ ہوں۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے سوال کیا کہ اگر جنرل باجوہ واقعی آپ کی نظر میں غدار ہیں تو آپ پھر آج بھی ان سے پس پردہ کیوں ملتے ہیں، مجھے آپکے ملنے پر اعتراض نہیں ہے، آپ ملیے، لیکن یہ نہ کریں کہ آپ رات کی تاریکی میں بند دروازوں کے پیچھے ہم سے ملیں اور اپنی آئینی و غیرآئینی خواہشوں کااظہار کریں، اور اسکے بعد دن کی روشنی میں آپ اسی شخص کو غدار کہیں، آپ کے قول و فعل اور فکر و تدبر میں اتنا بڑا تضاد ٹھیک نہیں ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ آپ کس قسم کے انسان ہیں۔
ندیم انجم نے کہا کہ موصوف کی جانب سے میر جعفر کہنا، غدار کہنا، نیوٹرل کہنا، جانور کہنا یہ سب اس لیے نہیں ہے کہ میں نے، میرے ادارے نے یا آرمی چیف نے کوئی غداری کی، یہ اس لیے بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی غیر آئینی غیر قانونی کام کیا ہے، بلکہ یہ اسلیے ہو رہا ہے ہے کہ فوج کے ادارے نے غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ بھی آپ کو بتادوں کہ اگر جنرل قمر جاوید باجوہ چاہتے تو اپنے آخری 6 سے 7 ماہ بہت سہولت کے ساتھ گزار سکتے تھے، وہ یہ فیصلہ نہ کرتے اور اپنے آپ کو مقدم رکھ کر آرام سے نومبر میں ریٹائر ہو کر چلے جاتے، نہ کسی نے تنقید کرنی تھی نہ اتنی غلاظت ہونی تھی، لیکن انہوں نے ملک اور ادارے کے حق میں فیصلہ دیا اور اپنی ذات کی قربانی دی۔ ندیم انجم نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آرمی چیف پر اور ان کے بچوں پر کتنی غلیظ تنقید کی جاتی رہی لیکن انہوں نے یہ فیصلہ کیا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ چلے جائیں تو ان کی وراثت میں ایک ایسا ادارہ ہو جس کا آئینی رول ہو، اس کا ایسا رول نہ ہو جسے متنازع بنایا جاسکے، لہٰذا اس چیز کی خاطر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ بھی آپ کو بتادوں کہ مارچ میں آرمی چیف کو ان کی مدت ملازمت میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کی بھی پیشکش کی گئی، یہ پیشکش میرے سامنے کی گئی، یہ بہت پرکشش پیشکش تھی، لیکن انہوں نے اس بنیادی فیصلے کی وجہ سے یہ پیشکش بھی ٹھکرادی کہ ادارے کو متنازع رول سے ہٹا کر آئینی رول پر لانا ہے۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ارشد شریف بہت قابل اور محنتی صحافی تھے، میں ذاتی طور پر ان کی عزت کرتا ہوں، ان کی سیاسی آراء سے کچھ احباب کو غالباً اختلاف ہے لیکن ان کے نام، کام اور لگن سے کسی کو انکار نہیں، مگر میرے پاس جو معلومات ہیں اور تحقیق کی بنیاد پر آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ارشد شریف کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے فوجی خاندان میں غازی بھی ہیں اور شہید بھی، جب وہ یہاں پر تھے تو ان کا اسٹیبلشمٹ سے اور میرے اپنے ادارے کے لوگوں سے رابطہ تھا، جب وہ باہر چلے گئے تب بھی رابطہ تھا، اس مہینے بھی انہوں نے میرے ساتھ کام کرنے والے جنرل صاحب سے رابطہ رکھا، اور اپنی واپسی کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کینیا میں اس کی انکوائری ہورہی ہے، ہماری حکومت نے بھی ایک ٹیم بنائی ہے جو تحقیقات کے لیے کینیا جائے گی، حکومت نے جوڈیشل کمیشن بھی بنایا ہے، لیکن میں نے دانستہ طور پر ان دونوں فورمز سے آئی ایس آئی کے ارکان نکال لیے تاکہ قوم کے سامنے غیر جانبدار اور 100 فیصد شفاف تحقیقات ہوں۔
