کیا ارشد شریف کا قتل انکے دشمنوں کی بجائے دوستوں نے کیا؟

سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات میں اب اس زاویے پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کیا انکی جان ان کے دشمنوں کی بجائے دوستوں نے لی جو کہ انکی موت کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فیصل واوڈا کی جانب سے ارشد شریف کی موت کو ٹارگٹڈ قتل قرار دیے جانے کے بعد اے آر وائے نیوز چینل کے مالک سلمان اقبال تحقیقاتی اداروں کے ریڈار پر آ گئے ہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے بھی انہیں ملک واپس لا کر شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے دعوی ٰکیا ہے کہ اپنی موت کے وقت ارشد شریف خرم احمد نامی جس شخص کے ساتھ گاڑی میں سوار تھے اس نے واقع کی اطلاع دینے کے لئے سب سے پہلا فون اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال کو کیا تھا کیونکہ ارشد کو ان کے پاس انہوں نے ہی بھجوایا تھا۔ عجیب ترین بات یہ ہے کہ واقعے کی تفصیل سے آگاہ ہونے کے باوجود سلمان اقبال نے اپنے ٹی وی چینل پر اگلے کئی گھنٹوں تک یہی خبر چلائی کہ ارشد شریف کینیا میں ایک حادثے میں انتقال کر گئے ہیں۔
فیصل واوڈا نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں جو اشارے دیے ہیں ان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کا سلمان اقبال سے بھی کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے کیونکہ انہیں کینیا بھجوانے میں ان کا مرکزی کردار تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ عمران خان کم از کم دو مرتبہ یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ارشد شریف کو بیرون ملک انہوں نے بھجوایا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ بظاہر شہباز گل کے خلاف غداری کیس درج ہونے کے بعد ارشد شریف کو اے آر وائی سے فارغ کر دیا گیا تھا اور اس بارے سلمان اقبال خود ٹوئیٹ بھی کر چکے تھے۔ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ ارشد شریف پہلی اطلاعات کے بر عکس سرے سے انگلینڈ گئے ہی نہیں تھے اور دبئی سے بھی کم از کم چھ یا آٹھ ہفتے پہلے کینیا منتقل ہو چکے تھے جہاں وہ وقار احمد اور خرم احمد نامی دو بھائیوں کے مہمان بنے ہوئے تھے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ارشد شریف کیس کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن سلمان اقبال سے کب اور کیسے رابطہ کرتا ہے۔ کینیا کے صحافیوں نے ارشد کے قتل کی نئی تفصیلات منظر عام پر لاتے ہوئے واقعے پر سوالات کھڑے کردیے ہیں جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کینیا کے ’نیشن میڈیا گروپ‘ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک خبر میں ایک سینئر تفتیشی رپورٹر نے کہا کہ پولیس کے دعوئوں کے مطابق ارشد شریف کی کار میں سوار شخص نے جنرل سروس یونٹ کے افسران پر گولی چلائی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ’ارشد شریف اور خرم احمد نے اتوار کی دوپہر نیروبی سے 85 کلو میٹر دور کاموکورو میں ’ایمو ڈمپ‘ نامی ایک انٹرٹینمنٹ کمپلیکس میں گزاری، اس کمپلیکس میں نشانہ بازی کے لیے ایک شوٹنگ رینج بھی ہے جو پاکستانی بندوقوں کا شوق رکھنے والوں میں مقبول ہے‘۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وقار اور خرم نامی دونوں بھائی اسلحے کی فروخت بھی کرتے ہیں اور ان کی شوٹنگ رینج پر کینیا کی پولیس اور فوجی اہلکاروں کو نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’خرم احمد کا تعلق اس خاندان سے ہے جو نیروبی میں ارشد شریف کی میزبانی کر رہا تھا اور وہ کافی عرصے سے کینیا میں رہائش پذیر ہیں کیونکہ ان کے پاس ٹیکس دہندگان کو دیا جانے کینیا ریونیو اتھارٹی کا پن نمبر ہے، واقعہ کے روز ان دونوں کے زیراستعمال ٹویوٹا لینڈ کروزر گاڑی خرم احمد کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ خرم اور وقار نامی بھائیوں کا پاکستان میں ایک اہم عسکری شخصیت سے بھی پرانا تعلق تھا جس کی سلمان اقبال سے بھی دوستی ہے۔ ماضی میں یہ شخصیت سلمان اقبال کے ٹی وی چینل کو عمران خان کے بیانیے کے فروغ کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔ اس لیے جب ارشد شریف کینیا پہنچے تو ان کے پاس سلمان اقبال کے علاوہ اس عسکری شخصیت کا ریفرنس بھی موجود تھا۔ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس واقعے کو اس زاویے سے بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا اس میں ان لوگوں کا کوئی ہاتھ تو نہیں جنہوں نے ارشد شریف کو کینیا بھجوایا تھا۔ فیصل واوڈا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ارشد شریف کو جھوٹی کہانیاں سنا کر پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور پھر کینیا میں ان کا قتل کر دیا گیا۔
کینیا کے معروف اخبار دی نیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ’ممکنہ طور پر واقعی کی رات خرم اور ارشد شریف رات 8 بجے اینٹرٹینمنٹ کمپلیکس کی شوٹنگ رینج پر دن گزارنے کے بعد نیروبی کی جانب روانہ ہوئے، جب وہ مین روڈ پر پہنچے تو انہیں جی ایس یو کے افسران نے روکا، پولیس کے مطابق جی ایس یو افسران اس علاقے میں ایک چوری کی گاڑی دیکھے جانے کی اطلاعات ملنے پر گاڑیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں پولیس کے متضاد بیانات کا ذکر کیا گیا جس میں پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد شریف اور ان کے بھائی نے ایک چوکی پر روکے جانے کےاحکامات کی خلاف ورزی کی لیکن بعد میں الزام عائد کیا کہ ارشد شریف کے بھائی نے ایک افسر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا جس نے پولیس کو جوابی فائرنگ کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں ایک نامعلوم پولیس اہلکار کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ’ان دونوں کو رکنے کا کہا گیا تھا لیکن انہوں نے ہمارے افسران پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے وہ نیروبی کی جانب جانے والی اس گاڑی پر جوابی فائرنگ پر مجبور ہوگئے‘۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ ارشد شریف کی گاڑی سے مبینہ طور پر فائرنگ کے بعد پولیس نے اپنی گاڑی پر ان کا پیچھا کیوں نہ کیا؟
سوال یہ بھی ہے کہ خرم نے ارشد شریف کو گولی لگنے کے بعد گاڑی ہسپتال لے جانے کی بجائے گھر کی جانب کیوں موڑ لی؟ دوسری جانب ٹوئیٹر پر کینیا کے تفتیشی صحافی برائن اوبیا نے کہا کہ ’ارشد شریف کو لگنے والی گولی کار کے عقب میں دیکھنے والے آئینے کے ذریعے ٹھیک نشانے پر چلائی گئی‘۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے اس پر کُل 9 گولیاں داغی گئیں، 4 گولیاں بائیں جانب لگیں اور ایک دائیں جانب سے ٹائر میں لگی۔ یاد رہے کہ فیصل واڈا نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ارشد شریف کو گولی یا تو کار میں موجود کسی شخص نے ماری یا بہت ہی قریب سے ماری گئی۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس تاثر کو سختی سے رد کیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق بنتا ہے۔ فیصل واوڈا نے بھی گزشتہ رات اپنی پریس کانفرنس میں اس تاثر کو سختی سے رد کیا کہ ارشد شریف موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد لانگ مارچ کی کال معاملات کو خون خرابے کی جانب لے جائےگی لہذا وہ اگلے چند روز میں ارشد کے قاتلوں کا نام لے دیں گے۔
