حکومت اور پی ٹی آئی کے خفیہ مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے سیاسی تنازعات طے کرنے کے لیے بالآخر شہباز شریف حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ سینئر صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی تنازعات طے کرنے کیلئے حکومتی نمائندوں اور تحریک انصاف کے نامزد رہنماؤں کے مابین براہِ راست ملاقات ہو گئی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی یہی چاہتی ہے کہ الیکشن کروائے جائیں، بھلے ہی یہ آئندہ سال اپریل 2023 میں ہوں۔ اس مطالبے کے تسلیم ہونے کے عوض پی ٹی آئی کی قیادت میثاق معیشت اور دیگر ادارہ جاتی اصلاحات کے معاہدے پر اتفاق کرے گی۔ دوسری جانب اگر عمران جلد الیکشن کیلئے زور دے رہے ہیں تو پی ڈی ایم اپنی حکومتی مدت مکمل کرنے پر اصرار کر رہی ہے، لہٰذا مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے لیکن دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے اپنی نااہلی کے فیصلے کے باوجود لانگ مارچ کا اعلان نہ کرنا بھی حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔
انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل شروع ہونے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان آئندہ دنوں میں ایک اور ملاقات ہونے والی ہے۔ اگر یہ ملاقات جاری رہیں تو اس عمل میں دونوں فریقین کی طرف سے مزید نمائندے بھی شامل ہو جائیں گے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک تحریک انصاف کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ حکومتی ذرائع دلاتے ہیں کہ ماضی قریب میں عمران خان بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ وہ چوروں کی حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے اور انہوں نے اسی لیے قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دیئے تھے۔ ایسے میں اگر واقعی تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کر چکی ہے تو یہ عمران خان کا ایک اور بڑا یوٹرن ہوگا۔ لیکن عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چودھری بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف ایک ہی شرط پر ہوں گے کہ وہ فوری الیکشن پر آمادگی کا اظہار کر دے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی گزشتہ کئی ماہ سے کوشش کر رہی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرلے، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے واضح کیا تھا کہ اسکا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں اور حکومت اور اپوزیشن سیاسی معاملات آپس میں طے کریں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے آئندہ الیکشن پر مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تاکہ موجودہ سیاسی بحران کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے انگریزی روزنامہ ڈان سے گفتگو کرتے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی نے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا یے کہ چار سال تک پی ڈی ایم والوں کیخلاف بیان بازی کے بعد اب عمران ہمارے ساتھ مذاکرات کیلئے بیٹھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ میں نے بھی اپنی سیاسی مخالفت ایک طرف رکھ کر قومی مفاد کیلئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکراتی عمل شروع ہوجانے کی تصدیق نہیں کی۔ خیال رہے کہ آخری مرتبہ دونوں فریقین کے درمیان مئی کے وسط میں بات چیت ہوئی تھی۔
انصار عباسی کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پس پردہ کوششوں کے نتیجے میں حکمران اتحاد کے نمائندوں اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان اسلام آباد میں 25؍ مئی کو ملاقات ہوئی تھی، یہ وہی دن تھا جب عمران خان نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا۔ تاہم، یہ بات چیت کسی بریک تھرو کے بغیر ہی ختم ہوگئی۔ نیوٹرلز نے بھی دونوں فریقین سے 24 مئی کو رابطہ کرکے درخواست کی تھی کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے سیاسی جھگڑے ختم کریں کیونکہ انکی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔
25 مئی کو ہونے والی اس ملاقات میں یوسف رضا گیلانی، ایاز صادق، احسن اقبال، ملک محمد خان، اسد محمود اور فیصل سبزواری نے حکمران اتحاد جبکہ پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے پی ٹی آئی کی نمائندگی کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں نیوٹرلز کا بھی ایک اہم نمائندہ موجود تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ مذاکرات میں شاہ محمود قریشی کے سخت رویے کی وجہ سے بریک تھرو نہیں ہوا تھا۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل ہونے کے بعد عمران خان تحریک انصاف کی چیئرمین شپ سے بھی فارغ ہونے جا رہے ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے نئے چیئرمین بن سکتے ہیں۔
