عمران خان نا اہل ہونے کے بعد بند گلی سے کیسے نکلیں گے؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ عمران خان ایبسولیوٹلی ناٹ سے سازشی سائفر تک کا سفر طے کرتے ہوئے بالآخر الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نا اہل ہو کر ایک بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی سیاست میں عوامی مقبولیت ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی تو تین دفعہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف آج لندن میں نہ بیٹھے ہوتے۔ تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے جنرل قمر باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز کے باوجود اب جبکہ آرمی چیف خود گھر جانے کا اعلان کر چکے ہیں تو خان کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا نظر آتا ہے۔ اسی لیے نااہلی کے باوجود موصوف نے لانگ مارچ کا اعلان نہیں کیا اور اب ہر قیمت پر معاملہ فہمی کی طرف رواں دواں نظر آرہے ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کس قدر خوش قسمت ہے کہ وہ جسے دھکے مار کر نکالتی ہے وہی والہانہ انداز میں اس کے بوٹ پالش کرنے کیلئے تن من دھن سے حاضر رہتا ہے۔ عمران اور جنرل باجوہ کے درمیان دو یا تین ملاقاتوں اور رابطوں کا لب لباب بھی یہی کچھ ہے۔

بھلا آج کل عمران خان کی دشمنی ہے کس کے ساتھ؟ موصوف الزام لگاتے ہیں کہ انکی حکومت غدار، میر جعفر، میر صادق، ہینڈلرز اور نیوٹرلز یعنی جانور نے گرائی، اور انکی جگہ اپنے مہرے بٹھا دئیے۔ موصوف کا اصرار ہے کہ چوروں کو حکومت سے نکالا جائے اور انہیں دوبارہ اقتدار دلوایا جائے حالانکہ انہیں ایک عین جمہوری اور آئینی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ہٹایا گیا تھا۔ عمران کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی فوج کے سیاسی کردار پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں اور اسی لیے اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں دوبارہ اقتدار دلوایا جائے۔ خان صاحب بار بار یہ کہتے ہیں کہ بدی اور نیکی کی جنگ میں فوج کسی صورت نیوٹرل نہیں ہوسکتی اور اسے برائی کو نکال کر اچھائی کو اقتدار میں لے آنا چاہیے۔ یعنی موصوف خود کو اچھائی اور اپنے سیاسی مخالفین کو برائی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لیکن فوج سے سیاسی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرنے والے عمران خان بھول جاتے ہیں کہ آئین میں فوج کی اصل ذمہ داری سرحدوں کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ ان جیسے ہائبرڈ سیاستدانوں کا تحفظ کرنا۔

حفیظ اللہ نیازی عمران کی دوغلی امریکہ مخالف پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک جانب موصوف اپنی حکومت کے برخاست ہونے کا الزام امریکہ پر عائد کرتے ہیں اور دوسری جانب چھپ چھپا کر امریکی سفیر اور دیگر امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ امریکہ مخالف عمران خان نے ایک جانب امریکی سازش کا بیانیہ گھرا ہوا ہے اور دوسری جانب وہ امریکہ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لئے امریکی لابنگ فرموں کو پیسے دے رہے ہیں جن کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں۔ حفیظ نیازی کہتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے رتی بھر شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بانی تھے۔ نواز شریف کے اقتدار کا خاتمہ اور پھر جلاوطنی بھی اسی لیے ہوئی کہ انہوں نے امریکی مخالفت کے باوجود بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان کو باقاعدہ نیوکلیئر طاقت بنا دیا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام آج بھی بیچ منجدھار کے ہے۔پاکستان کو نیوکلیئر پروگرام سے محروم رکھنا امریکی ایجنڈا ہے اور اس پر عمل درآمد کا طریقۂ واردات ایک ہی ہے کہ پاکستان کو سیاسی عدم استحکام اور معاشی بدحالی کا شکار کیا جائے تا کہ پاکستان ٹرے میں رکھ کر جوہری اثاثے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کر دے گا۔ لیکن سخت جان پاکستان آج بھی ہلکان ہونے کو تیار نہیں اور ڈٹ کر بیرونی سازشوں سے نبرد آزما ہے۔ نیازی کہتے ہیں کہ عمران کو نواز شریف کے متبادل کے طور پر ایک ہیرے کی صورت دے کر تراشا گیا تھا اور پھر 2018 کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کر کے خان کو اقتدار میں لایا گیا، لیکن یہ تجربہ بھی بری طرح ناکام رہا۔

حفیظ اللہ نیازی بتاتے ہیں کہ عمران خان نے امریکہ میں اپنی ساکھ اور تعلقات بہتر بنانے کے لئے جس لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں اسکا نام فینٹن ہے جو کئی سالوں سے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس فرم کا بنیادی مقصد ہی ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف مہم چلانا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں بھی اس فرم کو سفارتخانے کے ذریعے 30 ہزار ڈالرز ماہانہ حکومتی خرچے پر لابنگ کے لیے رکھا اور پھر حکومت سے نکل جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر 25 ہزار ڈالرز ماہانہ پر اسی کی خدمات حاصل کر لیں۔

دوسری جانب امریکہ مخالف بیانیے کی آڑ میں عمران خان نے عسکری قیادت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ نیازی کہتے ہیں کہ امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو غیر محفوظ قرار دینے کا بیان بھی عمران خان کی امریکی فرم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس بیان کا مقصد بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانا دھمکانا، بلیک میل کرنا، اور عوام کو اُس کے خلاف اُکسانا ہے تاکہ اپنی شرائط پر اسے اپنا تابع اور فرماں بردار بنایا جا سکے۔ لیکن اب عمران خان کی سیاسی عمر اپنے اختتام کے قریب ہے اور انکے الیکشن کے مطالبے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کی خواہش کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ایبسولوٹلی ناٹ۔

Back to top button