ٹرمپ کی بیوی اور بیٹی کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئیں

دنیا کے طاقتور ترین ریاستی سربراہ سمجھے جانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تمام تر مہارت اور چرب زبانی کے باوجود اپنی اہلیہ اور بیٹی کی مخاصمت پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور دونوں خواتین کی یہ بڑھتی ہوئی رقابت اب کھل کر سامنے آگئی ہے اور ٹرمپ کے لیے ایک بڑی پریشانی کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
ٹرمپ فیملی سے متعلق امریکی صدر کی سابقہ سیکرٹری کی حالیہ کتاب میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ خاتون اول مسز میلانیا ٹرمپ اور صدر ٹرمپ کی بڑی بیٹی ایوانکا میں کھلی دشمنی ہے اور بیٹی اپنی سوتیلی والدہ اور انکے قریبی ساتھیوں کو سانپ قرار دیتی ہے۔ مذکورہ کتاب میلانیا ٹرمپ کی پہلی سیکریٹری صحافی و لکھاری سٹیفی ونسن وولکوف نے لکھی ہے، جسے حال ہی میں امریکا سمیت دنیا بھر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مارکیٹ میں آنے سے قبل ہی نیویارک میگزین میں اولیویا نوزی نے ایک مضمون لکھا، جو کہ کتاب سے ماخوذ جملوں پر مبنی تھا۔مضمون کے مطابق سٹیفنی ونسٹن وولکوف کی کتاب میں اگرچہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی سیاسی، عسکری اور دیگر سازشی سرگرمیوں پر بھی بات کی گئی ہے، تاہم کتاب کی سب سے اہم بات میلانیا اور ایوانکا کے درمیان کشیدہ ترین تعلقات کی خبر ہے۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایوانکا ٹرمپ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح میلانیا ٹرمپ کے ماتحت چلنے والے وائٹ ہاؤس کے دفتر کا کنٹرول سنبھالیں۔ مصنف کے مطابق میلانیا ٹرمپ کی 2016 سے کوشش رہی ہے کہ وہ کسی طرح ایوانکا ٹرمپ کو اپنے والد کے ساتھ ہونے والے جلسوں سے دور رکھیں اور اس ضمن میں وہ چاہتی ہیں کہ بیٹی کی والد کے ساتھ تصویر تک نہ کھینچی جا سکے۔ میلانیا کو ایوانکا کا سیاسی طور پر متحرک ہونا، وائٹ ہاوس میں قیام کرنا اور عوامی مقام پر اپنے باپ کے ساتھ تصویر تک بنانا بھی گوارا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر صدارتی انتخابات کے لیے مہم چلانے میں مصروف ہیں اور ان میلانیا اور ایوانکا کو بھی انکے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
27 اگست کو ریپبلک کے نیشنل کانگریس کے اجلاس کے دوران میلانیا اور ایوانکا کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دیکھا گیا، تاہم اس دوران دونوں خواتین کے درمیان کشیدہ تعلقات کی نوعیت کو بھی جانچا جا سکتا ہے۔ کنونشن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے، جس میں میلانیا کو نہ چاہتے ہوئے بھی پہلے ایوانکا کو خوش آمدید کہتے اور پھر اگلے ہی لمحے چہرے پر سخت ناگواری کے جذبات کے ساتھ ایوانکا سے آنکھیں پھیرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین میلانیا کے اس رویے کو ایوانکا کے ساتھ اختلافات کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
74 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ جب سے امریکی صدر بنے ہیں، تب سے ان کا نام متنازع خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔جہاں وہ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، وہیں وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کو عالمی رہنماؤں سے ہونے والی خصوصی ملاقاتوں کے درمیان ساتھ رکھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ سرکاری صدارتی رہائش گاہ ’وائٹ ہاؤس‘ میں اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو رکھنے سمیت اپنی شادی شدہ بیٹی ایوانکا ٹرمپ کو بھی ساتھ رکھنے پر ان پر تنقید کی جاتی ہے۔اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت وائیٹ ہاؤس میں ایک نہیں بلکہ ’دو خواتین اول‘ رہتی ہیں۔
امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور دختر اول ایوانکا ٹرمپ کے درمیان سرد تعلقات کی خبریں تو 2016 میں اس وقت ہی سامنے آنا شروع ہوئی تھیں جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم چلاتے دکھائی دیتے تھے۔ تاہم دونوں خواتین میں سرد تعلقات کی خبروں نے اس وقت زور پکڑا جب کہ قسمت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر بنایا اور پھر وائٹ ہاؤس سے خبروں کے نئے پنڈورا باکس سامنے آنے لگے۔ گزشتہ 4 سال کے دوران نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان اختلافات اور سرد تعلقات کی خبریں سامنے آتی رہیں بلکہ اس دوران خاتون اول اور دختر اول کے درمیان بھی کشیدہ تعلقات کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی رہیں۔
پہلے بھی ایسی خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ دراصل ‘دو خواتین اول’ کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور دنیا کے طاقتور ترین صدارتی محل میں خاتون اول اور دختر اول کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔تاہم اب دونوں خواتین کے درمیان کشیدہ تعلقات کے حوالے سے جلد شائع ہونے والی کتاب میں کئی نئے انکشافات نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ نیویارک میگزین میں آنے والے کتاب ‘میلانیا اینڈ می: دی رائز اینڈ فال آف مائے فرینڈشپ ود فرسٹ لیڈی میں خاتون اول اور دختر اول کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کئی حیران کن انکشافات کیے گئے ہیں۔۔ سٹیفنی ونسنٹن وولکوف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میلانیا ٹرمپ دختر اول ایوانکا ٹرمپ اور ان کے قریبی افراد کو ‘سانپ’ قرار دیتی ہیں۔ کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2016 کی ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران میلانیا کے خلاف تقریریں چوری کرنے کی جو خبریں میڈیا میں پھیلائی گئیں، ان کے پیچھے بھی ایوانکا کا ہی ہاتھ تھا۔ اسی طرح کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایوانکا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس کی ملازم ہونے کے باوجود کئی حکومتی و سرکاری کام اپنی ذاتی ای میل کے ذریعے کرتی ہیں جب کہ ان کے والد اپنی انتخابی مہم میں ہلیری کلنٹن کو سرکاری کام ذاتی ای میل پر سر انجام دینے پر تنقید کا نشانہ بھی بنا چکے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو خاتون اسٹیفنی ونسنٹن وولکوف مذکورہ کتاب لکھ کر وائٹ ہاؤس کے اندر خواتین کی پکائی گئی کھچڑی کو سامنے لائی ہیں، وہ بھی ٹرمپ خاندان میں اختلافات کا سبب رہی ہیں۔ سٹیفنی ونسٹن کو میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں موجود اپنے دفتر ایسٹ ونگ میں تنخواہ کے بغیر کام کرنے والے سرکاری ملازم کی حیثیت سے رکھا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں ملازمت کے ختم ہونے پر بھاری رقم ادا کی گئی تھی۔ سٹیفنی ونسٹن وولکوف کو 2 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر کی خطیر رقم ادا کی گئی تھی، جس وجہ سے ٹرمپ خاندان میں اختلافات بھی پیدا ہوئے۔
