کپتان نے چوہدریوں کو رام کرنے کیلئے سینیٹ کی ایک سیٹ دے دی

بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں وزیراعظم عمران خان نے گجرات کے چوہدریوں سے اپنے تعلقات بہتر کرنے اور سینٹ کے الیکشن میں اپنے امیدواروں کے لیے قاف لیگ کی مدد حاصل کرنے کے لیے چوہدری شجاعت حسین کا ایک بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے اور سینیٹ الیکشن میں ایک سیٹ قاف لیگ کو دینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس سیٹ پر یا تو قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل کامل علی آغا الیکشن لڑیں گے یا چوہدری وجاہت حسین۔ لیکن یہ طے ہے کہ وزیراعظم نے چوہدری برادران کو ایک سیٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ یاد رہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں قاف لیگ کی سپورٹ تحریک انصاف کے لئے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے بغیر پی ٹی آئی سینٹ میں اپنی کئی سیٹیں ہار سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی گجرات کے چودھری برادران سے ملاقاتوں اور ٹیلی فونک گفتگو سے ایک سال سے کشیدہ تعلقات کی برف کافی حد تک پگھلی ہے جو نئی سیاسی صورت حال میں بہت اہم ہے. اس سے پہلے قاف لیگ کی قیادت وزیراعظم کے ساتھ ناراض تھی اور اس ناراضی کا خاتمہ تب ہوا جب عمران خان ایک ماہ پہلے لاہور میں شجاعت حسین کے گھر پہنچے اور ان کی عیادت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم اور چوہدری برادران پر بہت سارے ایسے بھید کھلے جو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے متعلق تھے جنہوں نے دونوں طرفین یعنی کپتان اور چوہدری برادران کو ایکدوسرے کے بارے ایسی بے بنیاد باتیں پہنچائیں تھیں جن سے کہ غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
تام دوسری طرف سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران نے نہایت عمدگی سے کھیلتے ہوئے سینٹ کے الیکشن میں ایک سیٹ وزیراعظم سے ہتھیا لی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے عمران خان کے ساتھ اختلافات ختم ہوچکے ہیں اور وہ آگے بھی غیر مشروط طور پر انکی حکومت کا ساتھ دیں گے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ چوہدری برادران نے ہمیشہ مفاد کی سیاست کی ہے اور آگے جا کر اگر عمران حکومت کے معاملات خراب ہوت ہیں اور اپوزیشن کی تحریک نے زور پکڑ لیا تو کوئی بعید نہیں کہ چوہدری بھی سائیڈ بدل جائیں۔ تاہم اگر اپوزیشن کا لانگ مارچ اگر کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا تو پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ چوہدری برادران اپنے اقتدار کے بقیہ ڈھائی برس عمران خان کے ساتھ اتحادی بن کر گزاریں گے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں پنجاب میں 2021 کے وسط میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پہلے نیا سیاسی بندوبست ہوسکتا ہے جس میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی تبدیلی بھی خارج از امکان نہیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ 2018 سے وفاق اور صوبے میں اتحادی ہونے کے باوجود ایک سال سے عمران خان اور چودھریوں میں عملا بول چال نہیں تھی. اس کی ایک وجہ وزیر اعظم کا مونس الٰہی کو بطور وزیر قبول نہ کرنا تھا. وزیراعظم اپوزیشن میں تھے تو کرپشن کے حوالے سے چودھریوں کا نام بھی لیا کرتے تھے اور چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مونس کو وزارت دے کر وہ اپنے بیانیے سے یوٹرن لینے کا الزام کا سامنا کریں حالانکہ وہ اب یو ٹرن لینے کو عظیم لیڈر کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ تاہم عمران خان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ جس شخص کو وہ ڈاکو قرار دیتے رہے اس کو تو پنجاب اسمبلی کا سپیکر بنا دیا لیکن اس کے بیٹے کو وزیر بنانے سے انکاری ہو گے جس کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پنجاب میں کئی سال سے اندرونی گروپنگ تحریک انصاف کا مسئلہ رہی ہے جس کے نتیجے میں 2013 کے پارٹی کے واحد انتخابات کے بعد ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کی نوبت بھی آئی.
اب اپنے قریب ترین ساتھی جہانگیر ترین کے چلے جانے اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے عمران خان نے دوسرے آپشنز پر غور شروع کیا ہے. ان میں سے ایک اپنے اتحادیوں چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی سے پھر تعلقات استوار کرنا ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران کے گھر پر ملاقات کے بعد سے وزیراعظم اور پرویز الہی کے مابین فون پر مسلسل رابطہ ہے اور پرویز الٰہی سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو سے بات اور آگے بڑھی. اس دوران وزیر اعظم نے قائد لیگ کی سینٹ الیکشن میں مدد مانگی۔ جواب میں چوہدری پرویز الہی نے بھی وزیراعظم کو چودھری شجاعت کی اس خواہش سے آگاہ کیا کہ وہ سینٹ کے الیکشن میں اپنی جماعت کے لئے ایک عدد سیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا پرویز الہی کو مثبت جواب ملا.
یاد رہے کہ قاف لیگ تحریک انصاف کی نہ صرف مرکز میں اتحادی ہے بلکہ پنجاب میں بھی اور اسکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر چوہدری برادران عثمان بزدار کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں تو ان کی حکومت دھڑام سے نیچے گر جائے گی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قاف لیگ کی حمایت صرف عثمان بزدار کی حد تک محدود ہے اور چوہدری برادران نے ڈھائی برس پہلے ہی عمران خان کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگر عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا تو پھر یہ عہدہ پرویزالٰہی کے پاس جائے گا کسی اور کے پاس نہیں۔ لہذا اگر وزیراعلی بزدسر مستقبل قریب میں اپنے عہدے سے فارغ ہوتے ہیں تو پرویز الہی کے وزیراعلی پنجاب بننے کا روشن امکان موجود ہے۔
