آئی ایس آئی کی اسد طور پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے آئی ایس آئی کے سینئر صحافی اسد طور پر حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان الزامات کا مقصد فوج کے اہم ترین ادارے کی ساکھ مجروح کرنا ہے
آئی ایس پی آر کی ایک پریس ریلیز کے مطابق آج اعلیٰ ترین سطح پر وزارت اطلاعات اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کا رابطہ ہوا، ISI نےاسلام آباد میں ہونیوالاحالیہ واقعہ جس میں ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی اسد علی طور کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق ایسے الزامات کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ISI کو ففتھ جنریشن وار فیئر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق آئی ایس آئی سمجھتی ہے کہ جب CCTV میں ملزمان کی شکلیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں تو پھر تفتیش آگے بڑھنی چاہئے اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ اس سلسلے میں ISI تفتیشی اداروں سے مکمل تعاون کرے گی۔۔
وزارت اطلاعات اس ضمن میں اسلام آباد پولیس سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔۔ پریس ریلیز کے مطابق بغیر ثبوت اداروں پر الزامات کی روش ختم ہونی چاہئے اس طرح کی منفی روایات ملک کے اداروں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں اور جلد اصل کردار بے نقاب ہوں گے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے صحافی اسد علی طور کے معاملے پر ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ اس مسئلے میں بعض لوگ حساس ترین ایجنسیوں کو بلاوجہ ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ ’آج ایک اہم فوٹیج ملی ہے جس کے ذریعے ہم ملزموں تک پہنچ جائیں گے۔‘وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’آئی جی اسلام آباد اور ایف آئی اے مل کر اسد علی طور کے ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔‘
دوسری جانب حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی آج صحافی اسد علی طور کی رہائش گاہ کا دورہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ صحافی اسد علی طور پر حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے آئی جی پولیس قاضی جمیل الرحمان نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی براہ راست نگرانی میں کام کرنے والی اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس پی صدر ہیں جبکہ دیگر ارکان میں ڈی ایس پی رمنا، ڈی ایس پی سپیشل برانچ اور ایس ایچ او شالیمار شامل ہیں۔
عدالتی رپورٹنگ اور حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقیدی تحریروں اور ویڈیوز کے لیے مشہور اسد علی طور پر کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج پر تنقید کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔تقریباً ایک مہینے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں پر ہونے والا یہ دوسرا حملہ ہے جس کے بعد صحافتی تنظیموں نے جمعے کو ملک بھر میں احتجاج بھی کیا تھا۔اس سے قبل 20 اپریل کو سینئیر صحافی اور پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم کو ان کی رہائش گاہ کے قریب ایک نامعلوم حملہ آور نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

Back to top button