مفاہمت سے نہیں، ہم لڑکر اپنا حق چھینیں گے


پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ حق لڑ کرلینا پڑتا ہے، ٹرے میں رکھ کرکبھی کچھ نہیں ملتا، مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی. انھوں نے مزید کہا کہ طاقتور کے ساتھ طاقت سے بات کی جاتی ہے، عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں،طاقتورکے سامنے منہ پر زِپ لگا لیں ایسا نہیں ہوگا۔ مریم نواز نے کہا کہ نہ کبھی پہلے کمزوری سے بات کی نہ آئندہ کروں گی.
مریم نواز نے پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اور پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی اپنی اپنی حکمت عملی ہے۔ شہبازشریف بطوراپوزیشن لیڈراپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں۔پی ڈی ایم مکمل طور پر آزاد خود مختار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اب پیپلزپارٹی ہمارا ہدف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی،طاقتور کے ساتھ بات طاقت سے کی جاتی ہے، طاقت کے ساتھ کمزوری کے ساتھ بات نہیں کی جاتی۔جہاں کمزوری دکھائی گئی وہاں دشمن حملہ آور ہوجائے گا۔
مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ٹرے میں رکھ کر کبھی کوئی چیز نہیں ملتی، آپ کو اپنا حق لڑ کر لینا پڑتا ہے۔اگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مزاحمت نہیں بھی ہورہی تو پھر بھی ہم عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صحافیوں پر گھروں میں گھس کر حملے ہورہے ہیں، دن دیہاڑے گولیاں ماری جاری ہیں، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، پوری دنیا میں ملک بدنام ہوگیا ہے۔قابل عزت ججز پر حملے کیے جارہے ہیں. مریم نواز کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس شوکت صدیقی ہم سب کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، یہ مقدمہ لڑنے سے حق ملے گا کمزوری دکھانے سے کچھ نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ میرے دل کو تکلیف پہنچتی ہے جب صحافیوں کو سچ لکھنے اور سچ بولنے کی سزا دی جاتی ہے۔ میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔صحافی سلام کے مستحق ہیں، اس طرح کے ماحول میں آواز اٹھانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہم نے مزاحمت کی، آواز اٹھائی، جہدوجہد کی، پاکستان کے عوام کی بات کررہی ہوں، اس لیے صحافت، سیاست اور عدالت میں غیرجمہوری قوتوں کا اثر ورسوخ کم ہوا، وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ مفاہمت سے نہیں ہوا، مفاہمت کا اگر یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی ظلم زیادتی کرتا ہے،دائر اختیار سے تجاوز کرتا ہے تو ہم منہ پر اس لیے زِپ لگا لیں کیونکہ وہ طاقتور سمجھتا ہے یہ اب پاکستان میں نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جلسے جلوس مایوسی کے عالم میں نہیں ہوتے، جو مایوس ہوتے ہیں وہ عوام کے پاس نہیں جاتے، عوام کے پاس جانا ، عوام سے رجوع کرنا ان کے تکالیف میں ان کے ساتھ کھڑے ہوناہر سیاستدان اور پی ڈی ایم کا حق ہے۔

Back to top button