آئی ایم ایف حکومت کے لیے ریلیف اور عوام کے لئے عذاب

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض کی اگلی قسط حاصل کر کے عمران خان حکومت نے اپنی مشکلات تو آسان کر دیں لیکن پاکستانی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ مہنگائی کے باعث بڑھتی ہوئی افراتفری اور بے چینی کے پیش نظر سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے حکومت کو پارلیمینٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے بصورتِ دیگر مہنگائی کے ستائے عوام اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کا دھڑن تختہ کر سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یکطرفہ احتساب کے ذریعے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو مہنگائی کے مارے عوام اپوزیشن کے ساتھ جا کھڑے ہوں گے اور اس صورت میں عوام کا احتجاج روکنا مشکل ہوجائے گا۔ سنیئر اینکر پرسن اور صحافی نسیم زہرہ اپنے تازہ تجزیئے میں کہتی ہیں کہ آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر ایک ارب روپے قرض ملنے کے بعد حکومت نے تو سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اس معاہدے کے ساتھ آنے والے ٹیکسوں اور مہنگائی سے عوام کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد نہ صرف پٹرول اور بجلی مہنگی کردی گئی ہے بلکہ اب گیس بھی نایاب ہو چکی ہے جس سے نہ صرف عام آدمی کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں بلکہ صنعتی پیداوار بھی رک گئی ہے۔ ان حالات میں پاکستان تیزی سے ایک اقتصادی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والی جن شرائط کا اعلان شوکت ترین نے کیا اس کے بعد مہنگائی رکنے والی نہیں۔ انکے مطابق بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس پیسہ کم ہے اور اخراجات بے بہا ہیں۔ بیلنس آف پیمنٹس میں پاکستان کی ایکسپورٹ اس کی جی ڈی پی کی نو فیصد ہے اور امپورٹس 25 فیصد ہیں۔ ڈالر کی کمی ہے لیکن امپورٹ پالیسی ایسی ہے کہ پچھلے تین سال میں پاکستانیوں کو دس ارب ڈالر کے ٹیلی فون اور قیمتی گاڑیاں امپورٹ کرنے کی چھوٹ دی گئی، اب اگر ملکی معیشت کو بہتر بنانا ہے تو یہ سب بدلنا ہوگا۔ نسیم کہتی ہیں کہ آج عام پاکستانیوں کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بڑھ کر شاید ہی کوئی اور مسئلہ ہو۔ چینی، آٹا، ٹماٹر، بجلی، گیس، پٹرول، بس نام لیجیے کسی بھی چیز کا جو پاکستانی روزمرہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں، ان سب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں لہذا عام آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا بوجھ اقتصادی ہے۔ لیکن نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ ابھی تو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے منفی اثرات آنا شروع ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے جن سخت شرائط کے عوض پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کی ہے اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بھی ذیادہ بڑھتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہذا آج کے پاکستان میں کوئی کرشمہ ہی ہو تو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ حالانکہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمت اٹھارہ مہینے میں مرتبہ دس فیصد گری ہے لیکن حکومت سستے تیل کا فائدہ پاکستانی عوام تک پہنچانے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔ وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت نے یہ معاہدہ کیا ہے کہ وہ ہر مہینے پٹرول کی قیمت میں چار روپے فی لیٹر اضافہ کرے گی اور پٹرولیم لیوی کو صفر سے 30 روپے تک لے جائے گی۔
نسیم زہرہ کے بقول یقیناً مہنگائی تو پاکستانیوں نے پہلے بھی دیکھی ہے لیکن اتنی تیزی سے بہت سے معاملات بگڑتے ہوئے شاید ماضی میں نہیں دیکھے۔ اس وقت دنیا کے بھی پاکستان پر کم پریشر تھے، دوست یا قدردان زیادہ تھے، ہم دوسرے ممالک کی جنگوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل ہو کر کچھ اقتصادی فوائد حاصل کرتے تھے، جن کی وجہ سے بین الاقوامی اقتصادی ادارے ہمارے ساتھ نرمی سے پیش آتے اور اندرون ملک بھی اقتصادیات کبھی کسی بھی حکومت کے لیے بظاہر سیاسی خطرے کی وجہ نہیں بنیں۔ اسی نئے آئی ایم ایف معاہدے سے منسلک اور بھی سنگین معاملات ہیں۔ پاکستان میں انڈسٹری کو یقیناً نقصانات ہوں گے، مثلا بجلی کی قیمت کو بڑھانا ہوگا، سیلز ٹیکس بھی لگانا ہوگا، تقریبا تین ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ جو صنعتکاروں وغیرہ کو دی تھی وہ بھی حکومت کو واپس لینا ہوگی۔ یہ اقدامات یقیناً صنعتی ترقی میں کمی کریں گے جس سے بے روزگاری مزید بڑھے گی اور عوام اور سرمایہ کار دونوں کے لیے حالات بگڑیں گے۔ ایسے میں حکومت کو اپوزیشن کے خلاف جارحانہ طرز عمل سے باز آکر ملکی معیشت سے متعلق پارلیمنٹ سے صلاح مشورہ کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں پارلیمنٹ ہی حکومت کی رہنمائی کرسکتی ہے کیونکہ معیشت حکومتی نہیں بلکہ اہم ترین قومی معاملہ ہے۔
