پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی کوششیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں، مگر لاکھوں چھوٹے دکاندار اب بھی باضابطہ ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ ایسے میں وفاقی حکومت نے ’’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘‘ متعارف کروا کر ایک بار پھر ریٹیل سیکٹر کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ سکیم چھوٹے تاجروں کے لیے سادہ، آسان اور کم لاگت ٹیکس نظام فراہم کرے گی، جبکہ ناقدین اور تاجر رہنما سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی کی متعدد ناکام سکیموں کے بعد کیا یہ منصوبہ واقعی مطلوبہ نتائج دے سکے گا یا یہ بھی سابقہ تجربات کی طرح کاغذوں تک محدود رہ جائے گا۔
مبصرین کے مطابق حکومت نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے ’’فکسڈ ٹیکس آسان سکیم‘‘ متعارف کرائی ہے۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد ان لاکھوں چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے جو اب تک باقاعدہ طور پر ٹیکس نظام کا حصہ نہیں بن سکے۔حکومت کے مطابق سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم مال فروخت کرنے والے دکاندار اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ایسے تاجروں کو اپنی سالانہ فروخت اور آمدنی کی تفصیلات ایک سادہ فارم میں جمع کروانا ہوں گی، جس کے بعد ان پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس لاگو ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے ٹیکس نظام کو آسان بنایا جائے گا اور چھوٹے کاروباری افراد کو پیچیدہ گوشواروں اور طویل قانونی تقاضوں سے نجات ملے گی۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے مطابق سکیم کی تیاری میں تاجر تنظیموں سے مشاورت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دکانداروں کی جانب سے بجلی اور ٹیلی فون بلوں پر ادا کیا گیا ود ہولڈنگ ٹیکس بھی اس فکسڈ ٹیکس میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا، جس سے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا۔ مزید یہ کہ سکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کو ایف بی آر کی جانب سے ایک خصوصی شناختی پلیٹ اور کیو آر کوڈ فراہم کیا جائے گا، جو ان کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی علامت ہوگا۔تاہم اس سکیم کے ساتھ سختی کا عنصر بھی موجود ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو دکاندار نہ اس سکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی موجودہ ٹیکس نظام کا حصہ بنیں گے، ان پر مرحلہ وار جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 44 لاکھ دکاندار موجود ہیں، جن میں سے 35 لاکھ چھوٹے کاروباری افراد ہیں۔ یہی طبقہ اس نئی سکیم کا اصل ہدف ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر ان کاروباروں کو دستاویزی معیشت میں شامل کر لیا جائے تو نہ صرف ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کا حجم اور شفافیت بھی بہتر ہوگی۔
دوسری جانب تاجر نمائندے اس سکیم کے بعض پہلوؤں پر تحفظات رکھتے ہیں۔ انجمن تاجران کے رہنما نعیم میر کے مطابق اگر کسی تاجر کا ود ہولڈنگ ٹیکس اس کے فکسڈ ٹیکس سے زیادہ بنتا ہے تو اضافی رقم کی واپسی کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔ ان کے خیال میں حکومت کو فوری طور پر ٹیکس وصولی کے بجائے پہلے رجسٹریشن اور اعتماد سازی پر توجہ دینی چاہیے۔
معاشی امور کے ماہرین بھی اس سکیم کو ماضی کی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریٹیل سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پہلے بھی متعدد اقدامات کیے جا چکے ہیں، جن میں تاجر دوست سکیم اور پوائنٹ آف سیل (POS) نظام شامل ہیں، لیکن ان سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ نئی سکیمیں متعارف کروانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر اور مسلسل عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق حکومت پر ٹیکس محصولات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، کا دباؤ بھی موجود ہے۔ اسی لیے ٹیکس نیٹ میں وسعت موجودہ معاشی حکمت عملی کا اہم جزو بن چکی ہے۔ تاہم حکومت اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ نئی سکیم تاجروں کے مطالبات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے قواعد و ضوابط پر نہیں بلکہ تاجروں کے اعتماد، ایف بی آر کی استعداد اور حکومتی سنجیدگی پر بھی ہوگا۔ اگر حکومت لاکھوں چھوٹے دکانداروں کو رضاکارانہ طور پر نظام کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی ٹیکس اصلاحات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر ماضی کی طرح عمل درآمد کمزور رہا اور اعتماد کا فقدان برقرار رہا تو یہ سکیم بھی سابقہ منصوبوں کی فہرست میں شامل ہو سکتی ہے جن سے توقعات تو وابستہ تھیں مگر نتائج محدود رہے۔