مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کےلیے ناگزیر ہے : پاکستان

 

 

 

پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل عالمی اور علاقائی امن و استحکام کےلیے ناگزیر ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتےہوئے کہاکہ یہ رپورٹ عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک اہم ذریعہ ہےاور اس سے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو کونسل کی سرگرمیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا موقع ملتاہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بتایا کہ جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کو سالانہ رپورٹ کے ابتدائی حصے کی تیاری اور رابطہ کاری کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔پاکستان نے اس عمل میں کھلے، تعمیری اور جامع انداز کو اپنایا اور مختلف رکن ممالک کی آراء کو رپورٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک جامع اور تجزیاتی دستاویز تیار کی جاسکے۔

عاصم افتخار احمد نے کہاکہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران سلامتی کونسل نے افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں امن و سلامتی کو درپیش چیلنجز پر فعال کردار ادا کیا۔کونسل نے شہریوں کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اقوام متحدہ کے امن مشنز،خواتین، امن اور سلامتی جیسے موضوعات پر بھی خصوصی توجہ دی۔

مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ شدید جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل عالمی استحکام اور امن کے فروغ کےلیے مرکزی کردار ادا کرتی رہی۔پاکستان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت تنازعات کی روک تھام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کےلیے متفق ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ نے ایک بار پھر فلسطین اور جموں و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔یہ دونوں تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتےہیں اور انہیں بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جاناچاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق بیس سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کےسامنے لائےگئے جب کہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی۔یہ اس بات کا ثبوت ہےکہ 7 دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود جموں و کشمیر تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔پاکستان کا مؤقف واضح ہےکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےلیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے،جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کےمطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے زور دیاکہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جانا چاہیے،جس کا وعدہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے ان سےکر رکھا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، کی صورت حال سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں رہی۔انہوں نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 کو امید کی ایک کرن قرار دیتےہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانےکے مؤقف کا اعادہ کیا۔

عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پاکستان عالمی امن مشنز کو مزید مؤثر،وسائل سے لیس اور جدید چیلنجز سے ہم آہنگ بنانے کےلیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

پاکستان اور روس میں غیرقانونی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کےلیے معاہدے

انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی مخالفت کرتےہوئے کہاکہ پاکستان ایسی جامع اصلاحات کا حامی ہے جو چند ممالک نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کریں۔ اصلاحات سب کےلیے، خصوصی مراعات کسی کےلیے نہیں۔

Back to top button