انتخابات سر پر، احتجاج دروازے پر: آزاد کشمیرمیں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا

آزاد کشمیر ایک بار پھر سیاسی بے چینی، احتجاجی سیاست اور آئینی بحثوں کے مرکز میں آ چکا ہے۔ ایک طرف جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو بڑے احتجاج اور لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے، تو دوسری جانب الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو عام انتخابات کے انعقاد کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کے معاملے پر اختلافات، ریاستی اداروں کی سخت پوزیشن، فورسز کی تعیناتی اور سیاحتی سرگرمیوں پر منڈلاتے خدشات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر ایک نئے سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے یا جمہوری عمل تمام اختلافات پر غالب آ جائے گا؟

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر اس وقت ایک اہم سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں احتجاجی سیاست، آئینی معاملات اور انتخابی سرگرمیاں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو احتجاج کی کال دے رکھی ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو عام انتخابات کے انعقاد کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ ان دونوں پیش رفتوں نے ریاست کی سیاسی فضا کو غیر معمولی حد تک گرما دیا ہے۔

Back to top button