ساہیوال اور اوکاڑہ میں ’جنگ‘ چھڑ گئی، ’میمز‘ میزائل اور ’طنز‘ ڈرونز کے حملے

آج کے ڈیجیٹل دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے میدانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ پنجاب کے دو پڑوسی شہروں، ساہیوال اور اوکاڑہ، کے درمیان حالیہ دنوں میں ایسی ہی ایک دلچسپ اور مزاحیہ ’’جنگ‘‘ نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا رکھی ہے۔ اس جنگ میں نہ توپوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے، نہ بارود کی بو محسوس ہوتی ہے، بلکہ میمز کے میزائل، طنز کے ڈرون اور تخیل کے جنگی طیارے فضا میں گردش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند مزاحیہ پوسٹوں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی وائرل مہم میں تبدیل ہو گیا جس میں پنجاب کے دیگر شہر بھی ’’اتحادی‘‘ اور ’’ثالث‘‘ بن کر شامل ہو گئے۔

مبصرین کے مطابق سوشل میڈیا نے دنیا بھر میں اظہارِ رائے، تفریح اور تخلیقی صلاحیتوں کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف اوقات میں کئی منفرد رجحانات سامنے آتے رہے ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ساہیوال اور اوکاڑہ کے درمیان چلنے والی فرضی ’’جنگ‘‘ نے انٹرنیٹ صارفین کو خوب محظوظ کر رکھا ہے۔یہ جنگ کسی سرحدی تنازع یا سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ مکمل طور پر مزاح اور تفریح پر مبنی ایک سوشل میڈیا رجحان ہے۔ بظاہر اس کا آغاز ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا جہاں اوکاڑہ کے حوالے سے طنزیہ اور مزاحیہ ویڈیوز پوسٹ کی جا رہی تھیں۔ ان پوسٹوں میں مقامی واقعات کو فوجی اصطلاحات اور جنگی منظرناموں سے جوڑ کر پیش کیا گیا، جس سے دیکھنے والوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔

اصل موڑ اس وقت آیا جب ایک ویڈیو میں ایک میزائل کے گرنے کی فوٹیج کے ساتھ یہ تاثر دیا گیا کہ اوکاڑہ نے ساہیوال پر حملہ کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ محض ایک مذاق تھا، لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور دونوں شہروں کے درمیان ایک فرضی جنگ کا بیانیہ تشکیل دینا شروع کر دیا۔

اس کے بعد میمز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کہیں اوکاڑہ کی فضائیہ کے لیے دیسی ساختہ جہازوں کو جدید جنگی طیارے قرار دیا گیا، تو کہیں ساہیوال کی جانب سے بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائلوں کے جوابی حملوں کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر، ایڈیٹ شدہ ویڈیوز اور طنزیہ تبصروں نے اس رجحان کو مزید مقبول بنا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جنگ میں صرف ساہیوال اور اوکاڑہ ہی شامل نہیں رہے۔ فیصل آباد نے ثالثی کی پیشکش کر دی، کراچی سے فوجی کمک روانہ ہونے کی ’’خبریں‘‘ سامنے آئیں، جبکہ دیگر شہروں کے صارفین نے بھی اپنے اپنے انداز میں اس فرضی تنازع میں حصہ لیا۔ یوں ایک مقامی مذاق پورے ملک کے لیے تفریح کا ذریعہ بن گیا۔

اس سوشل میڈیا جنگ کا ایک منفرد پہلو تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بھی ہے۔ صارفین نے جنگی اصطلاحات، دفاعی تجزیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری کی زبان کو مزاحیہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایسے میمز تخلیق کیے جو ہزاروں افراد کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ بعض پوسٹوں میں چین کی جانب سے لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ کچھ صارفین نے ساہیوال نسل کی گائے کو ’’جاسوس‘‘ قرار دے کر مزاح کا نیا رنگ پیدا کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی مثال بھی ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین سنجیدہ موضوعات کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب عالمی سطح پر جنگوں، تنازعات اور کشیدگی کی خبریں نمایاں ہیں، ایسے میں یہ فرضی جنگ لوگوں کے لیے تفریح، تخلیق اور مثبت مصروفیت کا ذریعہ بن گئی۔ اگرچہ ساہیوال اور اوکاڑہ کی یہ جنگ حقیقت میں کہیں موجود نہیں، لیکن سوشل میڈیا کی دنیا میں اس نے ثابت کر دیا ہے کہ کبھی کبھی چند مزاحیہ پوسٹیں بھی ایسا بیانیہ تشکیل دے سکتی ہیں جو لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ ہنسنے، تخلیق کرنے اور لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ’’میم وار‘‘ پاکستان کے حالیہ مقبول ترین سوشل میڈیا رجحانات میں شمار کی جا رہی ہے۔

Back to top button