عمران خان کا مینڈیٹ چوری ہونے کا دعوی غلط ثابت ہو گیا

 

 

 

 

فروری 2024 کے انتخابات کے بعد سے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف الیکشن نتائج میں ہیرا پھیری اور مینڈیٹ کی چوری کے جو الزامات عائد کرتی آ رہی تھی وہ بالآخر جھوٹے ثابت ہو گئے ہیں کیونکہ مختلف الیکشن ٹریبیونلز نے ایسے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

 

یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملک بھر میں وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلی کی گئی اور متعدد حلقوں میں اس کے امیدواروں کی کامیابی کو فارم 45 کے نتائج میں مبینہ ردوبدل کے ذریعے شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔ پارٹی قیادت نے اس دعوے کو "مینڈیٹ کی چوری” کا نام دیا اور یہی بیانیہ بعد ازاں اس کی سیاسی مہم کا مرکزی نکتہ بن گیا۔ تاہم دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد انتخابی ٹربیونلز کے فیصلوں اور دستیاب قانونی ریکارڈ نے اس بیانیے کے قانونی پہلو پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 

عام انتخابات کے فوری بعد پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے مختلف حلقوں میں انتخابی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں انتخابی عذر داریاں دائر کیں۔ ان درخواستوں میں بنیادی الزام یہ تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے فارم 45 کے نتائج کو بعد ازاں فارم 47 میں تبدیل کر کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا گیا۔ تاہم انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے فافن (FAFEN) کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 374 انتخابی عذر داریوں میں سے 246 کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ان میں سے 242 درخواستیں مسترد کر دی گئیں جبکہ صرف چار درخواستیں کامیاب ہوئیں، اور ان کا تعلق بھی بلوچستان اسمبلی کے چند حلقوں سے تھا جن کا پی ٹی آئی کے انتخابی دعوؤں سے براہ راست تعلق نہیں تھا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن امیدواروں نے سب سے زیادہ تعداد میں انتخابی پٹیشنز دائر کیں، ان میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار نمایاں تھے۔

 

تاہم اب تک سامنے آنے والے فیصلوں میں وہ انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کے اپنے الزامات کو قانونی معیار کے مطابق ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں اور انتخابی ٹربیونلز میں کسی بھی الزام کو ثابت کرنے کے لیے صرف سیاسی دعوے یا عوامی تاثر کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس شواہد، مکمل دستاویزی ثبوت اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ متعدد مقدمات میں درخواستیں یا تو ناقابلِ سماعت قرار پائیں، یا شواہد ناکافی ہونے کے باعث مسترد ہوئیں، جبکہ بعض مقدمات میں درخواست گزار اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سیاسی بیانیہ اور قانونی حقیقت ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ جلسوں، احتجاجی ریلیوں اور سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والا کوئی بھی مؤقف عدالت میں اسی وقت وزن حاصل کرتا ہے جب اس کی پشت پر قابلِ قبول ثبوت موجود ہوں۔ مبصرین کے مطابق انتخابی ٹربیونلز کے فیصلوں نے کم از کم اس حد تک ضرور واضح کیا ہے کہ اب تک دستیاب قانونی کارروائیوں میں "فارم 47 کے ذریعے مینڈیٹ چوری” کا الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین اس صورتحال کا موازنہ ماضی کے "35 پنکچر” بیانیے سے کرتے ہیں، جسے بھی سیاسی سطح پر تو بھرپور انداز میں پیش کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اس کے حق میں ٹھوس شواہد سامنے نہیں آ سکے تھے۔

 

دوسری جانب پی ٹی آئی اور اس کے حامی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نظام میں موجود خامیوں، مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر اور دیگر انتظامی عوامل نے انصاف کے حصول کو مشکل بنا دیا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق متعدد فیصلوں کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور حتمی قانونی تصویر ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔

قانونی ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی ٹربیونلز کے فیصلے اگرچہ اہم ہوتے ہیں، تاہم سپریم کورٹ میں زیر التوا اپیلوں کے فیصلے مستقبل میں بعض معاملات کی نئی تشریح بھی سامنے لا سکتے ہیں۔ اس لیے قانونی عمل ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس کے باوجود موجودہ عدالتی ریکارڈ اور ٹربیونلز کے فیصلوں کا مجموعی رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والے بڑے سیاسی الزامات کو عدالتوں میں مطلوبہ معیار کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین پی ٹی آئی کے بعد از انتخابات بیانیے کو قانونی اعتبار سے کمزور قرار دے رہے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق "مینڈیٹ کی چوری” کا بیانیہ پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست کا بنیادی ستون رہا ہے۔ اسی بیانیے نے پارٹی کارکنوں کو متحرک رکھا اور حکومت مخالف سیاسی ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن قانونی فورمز پر مسلسل ناکامیوں نے اس مؤقف کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں بھی عدالتی فیصلوں کا رجحان یہی رہا تو پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی حکمت عملی اور بعد از انتخابات بیانیے پر ازسرنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اعلیٰ عدالتوں میں کوئی مختلف فیصلہ سامنے آتا ہے تو ملکی سیاسی منظرنامے پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

موجودہ صورتحال میں انتخابی ٹربیونلز کے ریکارڈ سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے حوالے سے عائد کیے گئے سنگین الزامات اب تک قانونی سطح پر ثابت نہیں ہو سکے۔ ناقدین کے نزدیک یہ امر اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ انتخابی دھاندلی کے دعوے سیاسی طور پر مؤثر ضرور رہے، لیکن انہیں عدالتی فورمز پر مطلوبہ شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکا۔

یوں دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی فارم 47 اور مینڈیٹ چوری کا تنازع پاکستانی سیاست میں زیر بحث ہے، تاہم انتخابی ٹربیونلز کے اب تک کے فیصلے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قانونی میدان میں پی ٹی آئی اپنے بنیادی الزامات کے حق میں فیصلہ کن ثبوت پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود حتمی قانونی اور سیاسی بحث کے دروازے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور آنے والے عدالتی فیصلے اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔

Back to top button