آئی ووٹنگ کیلئے معاہدہ، الیکشن کمیشن اورنادرا آمنے سامنے

الیکشن کمیشن اور نادرا آمنے سامنے آ گئے۔نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے آئی ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ 2.4 ارب روپے کے معاہدے کیلئے لکھے گئے خط پر الیکشن کمیشن نے برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا کی طرف سے لکھے گئےخط میں اختیار کئے گئے لہجے سے ایسا لگ رہا ہے کہ نادرا الیکشن کمیشن کو حکم دے رہا ہے جو مایوس کن ہے۔
نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ آئی ووٹنگ کے لیے 2.4 ارب روپے کا نیا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن آئی ووٹنگ سے متعلق نادرا کے مجوزہ نظام پر مثبت پیشرفت کرے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین نادرا کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا کہ نادرا پہلے بتائے اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا؟ آئی ووٹنگ کے سابق منصوبے پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔جوابی خط میں نادرا کو کہا گیا ہے اگر چھوڑے گئے نظام میں کوئی خامیاں تھیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ الیکشن انعقاد کے لیے کسی نئے طریقہ کار پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن نے چئیرمین نادرا طارق ملک کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا کہ نادرا کی جانب سے اختیار کیے گئے لہجے پر مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ الیکشن انعقاد کے لیے کسی نئے طریقہ کار پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، نادرا کے خط کے لہجے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ الیکشن کمیشن نادرا کا ماتحت ادارہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ایسا تاثر ملتا ہے کہ نادرا الیکشن کمیشن کو حکم دے رہا ہے، نادرا الیکشن کمیشن سے ائی ووٹنگ کے لیے 2.4ارب روپے کا نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے، نادرا پہلے بتائے کہ اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا جس پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔الیکشن کمیشن کے مطابق اگر موجودہ نظام میں کوئی خامیاں تھی تو ا سکا ذمہ دار کون ہے، کیا کسی پر ذمہ داری کا تعین کیا گیا، نادرا نے الیکشن کمیشن کو کہا تھا کہ وہ آئی ووٹنگ کے حوالے سے نادرا کے مجوزہ نظام پر مثبت پیش رفت کرے۔
