آئی پی پیز سے مذاکرات کیلئے نئی حکومتی کمیٹی تشکیل

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت نے سابقہ سینئر بیوروکریٹ بابر یعقوب فتح محمد کی سربراہی میں ایک نئی کمیٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہےجو مبینہ طور پر 50 کھرب روپے کی اضافی ادائیگیوں اور ٹیرف میں کمی پر خودمختار بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پی) سے بات چیت کرے گی۔
اس نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی اسی مسئلے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے معدنیات و مارکیٹنگ شہزاد قاسم کی سربراہی میں ایک تکنیکی کمیٹی تحلیل ہوگئی ہے. بابر یعقوب جو گزشتہ سال وفاقی سیکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں، اس وقت فیڈرل لینڈ کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔انہیں نوٹیفکیشن کے تحت اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مذاکراتی کمیٹی میں اپنی پسند کا سیکرٹری مقرر کریں۔کمیٹی میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین محمد علی بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک تفتیشی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے غلط ذرائع سے آئی پی پیز کو تقریباً 50 کھرب روپے زائد ادائیگی پر ایک رپورٹ تیار کی تھی۔
کمیٹی کے دو دیگر ممبران میں خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے وکیل اور بیرسٹر قاسم ودود اور پاور ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری شامل ہیں جنہیں نامزد کیا جانا ابھی باقی ہے۔
سیکریٹری توانائی عرفان علی کے مطابق وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) نے 2 اپریل کو وزیر برائے بجلی عمر ایوب خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی کو ہیٹ ریٹ ٹیسٹ، مقامی سرمایہ کاروں کے لئے کرنسی کی قیمت سازی ، قرض کی مدت میں اضافہ، آپریشن اور بحالی کے اخراجات اور ایکوئٹی پر ریٹرز پر آئی پی پیز سے بات چیت کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔مرکزی کمیٹی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے مارکیٹنگ اینڈ ڈویلپمنٹ منرل ریسورس شہزاد قاسم اور فنانس، پاور اینڈ لا اینڈ جسٹس ڈویژنز کے سیکریٹریز کو شامل کیا گیا۔مرکزی کمیٹی نے شہزاد قاسم کی سربراہی میں ایک تکنیکی سب کمیٹی بھی تشکیل دی۔
دریں اثنا کمیٹی نے پاور سیکٹر آڈٹ سرکلر ڈیت ریزولوشن کے لیے بجلی کے شعبے کے مستقبل کے روڈ میپ کے ساتھ محمد علی کی قیادت میں بننے والی ایک رپورٹ پیش کی.اس رپورٹ کے مطابق سی سی او ای نے 20 اپریل کو فیصلہ کیا کہ ‘تجارتی اور پالیسی کے پہلوؤں سے متعلق محمد علی رپورٹ کی سفارشات آئی پی پیز سے متعلق تکنیکی کمیٹی کو ارسال کی جائیں گی، جو پہلے ہی معدنیات پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے تحت کام کررہی ہیں‘۔تاہم وزیر توانائی نے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جس میں محمد علی بھی شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے تحت مذاکراتی کمیٹی کو متعدد آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کرنی ہے جس میں وہ ماضی کی اضافی ادائیگیوں کی مقدار، سود کی شرحوں میں کمی اور قرض کی ادائیگیوں سمیت دیگر امور جیسے قرض کی مدت میں توسیع وغیرہ، پر مذاکرات کریں گے۔نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اضافی ادائیگیاں اس تک محدود نہیں جو رپورٹ میں نمایاں کی گئیں اور مذاکراتی کمیٹی ممکنہ اضافی ادائیگیوں پر غور کرے گی جو شاید رپورٹ میں شامل نہیں کی گئی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button