اسلام آباد پر کرینوں اور پٹرول بموں سے یلغار کا منصوبہ

 

 

 

تحریک انصاف کے پشاور چیپٹر کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے لیے تیاریوں کا سلسلہ تیز ہونے کے بعد انٹیلیجنس اداروں کو خبردار ملی ہے کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے مظاہرین کرینوں، پٹرول بموں، غلیلوں اور آہنی ڈنڈوں سے لیس ہو کر اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پشاور سے آنے والی ایک ویڈیو میں پی ٹی آئی سے منسلک کچھ افراد کو آہنی ڈنڈے اور غلیلیں تیار کرنے اور نشانہ لگانے کی مشق کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسکے علاوہ بعض افراد ایک حجرے میں پولیس کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں استعمال ہونے والا سامان تیار کرتے دکھائی دیتے ہیں جس میں آنسو گیس سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے ماسک بھی نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو میں بڑی تعداد میں بوریاں بھی دکھائی دیتی ہیں، جن میں کنچے موجود ہیں۔

 

انٹیلیجنس اداروں نے اپنی خفیہ رپورٹس میں دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف پشاور چیپٹر نے اسلام آباد پر یلغار کے لیے 3,500 آنسو گیس ماسک، 1,500 آنسو گیس کے شیل، 5,000 غلیلیں اور 7001 پٹرول بم تیار کیے ہیں جنہیں سکیورٹی فورسز سے تصادم کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔ ان اطلاعات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا کہ 27 ستمبر کو اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے یا وفاقی دارالحکومت کی طرف زبردستی پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اگر کسی نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے ایک افسوس ناک واقعے کے بعد شہدا کے جنازے اٹھائے جارہے ہیں، ایسے وقت میں دھرنوں کی تیاری مناسب نہیں۔ ان کے بقول قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے اور کسی کو یہ توقع نہیں ہونی چاہیے کہ اہلکاروں پر حملہ ہو اور ریاست خاموش رہے۔

 

وزیر داخلہ نے احتجاج اور جتھوں کی صورت میں دارالحکومت کی طرف پیش قدمی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی احتجاج اپنے علاقے یا شہر میں بھی کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپوزیشن رہنماؤں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تصادم کی سیاست سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور کوشش کی جائے گی کہ اسلام آباد کے شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔

 

وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر مخصوص قبائل کے لوگوں کے اسلام آباد آنے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی صورت بدامنی پھیلنے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صوبے میں قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے اور اگر احتجاج کرنا ہے تو پرامن احتجاج کیا جائے۔ ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کو اسلام آباد میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا ایسی عمارتوں پر قبضہ کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں جہاں شہریوں کی آمدورفت متاثر ہو۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج کے لیے سرکاری وسائل یا سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے دی جائے۔

 

عدالتی کارروائی کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ماضی کے پی ٹی آئی احتجاجوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے احتجاج کے دوران رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرینیں استعمال کی گئی تھیں، جبکہ 2024 کے احتجاج کے حوالے سے سرکاری وکیل نے تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے الزامات عدالت کے سامنے رکھے۔

 

دوسری جانب اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔ اسلام آباد میں اضافی نفری اور رینجرز کی تعیناتی کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ حساس مقامات، اہم سرکاری عمارتوں اور شہریوں کی آمدورفت کو محفوظ رکھا جاسکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اضافی سکیورٹی کا مقصد سیاسی سرگرمی کو روکنا نہیں بلکہ امن و امان برقرار رکھنا اور کسی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری ردعمل کے قابل بنانا ہے۔

27 ستمبر کو معلوم ہوجائے گا ریاست اپنی رِٹ کیسے قائم کرتی ہے : طلال چوہدری

یوں 27 ستمبر کا احتجاج حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ایک اہم سیاسی و انتظامی آزمائش بن گیا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی نے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے، حکومت کی سکیورٹی تیاریوں اور وزیر داخلہ کی سخت وارننگ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اصل توجہ اس بات پر رہے گی کہ احتجاج کس مقام اور طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے، شرکا قانون کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں، اور انتظامیہ شہریوں کے معمولات زندگی اور پرامن احتجاج کے حق کے درمیان توازن کس طرح برقرار رکھتی ہے۔

 

 

Back to top button