آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور جنگی اخراجات پر تنازع، ایران نے امریکی دعوے مسترد کر دیے

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے امریکی وزیر خزانہ پر حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کا الزام عائد کردیا

تہران (نیوز ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور ایران کے خلاف جنگ کے مالی اخراجات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان پر حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 14 روز کے دوران امریکا کی مدد سے 130 ملین بیرل تیل آبنائے ہرمز سے باہر منتقل کیا گیا۔

اس کے جواب میں محمد باقر غالیباف نے امریکی وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ جنگ کے اصل اخراجات سے متعلق مالیاتی اعداد و شمار بھی سامنے لائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو جنگ پر 130 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اپنے بیان میں اسکاٹ بیسنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تیل کی ترسیل اور جنگی اخراجات سے متعلق امریکی دعووں کو حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے دوران تیل کی ترسیل اور اس راستے سے بحری آمدورفت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

Back to top button