آرمی چیف کی تقرری میں جنرل باجوہ سے رسمی مشاورت

باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ خالصتاً حکومتی اتحاد نے کیا ہے اور اس حوالے سے جنرل قمر باجوہ سے کی جانے والی مشاورت ایک رسمی کارروائی تھی جسکا اصل مقصد انہیں اعتماد میں لینا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومتی اتحاد نے مشاورت کے ساتھ سینئر ترین جرنیل کو جنرل باجوہ کی جگہ نیا آرمی چیف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا حتمی اعلان اگلے دو تین روز میں کر دیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر ترین جرنیل کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیے جانے کے بعد فوجی سربراہ مقرر کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سنیارٹی لسٹ میں سے ایک اور جرنیل کو بھی فور سٹار جنرل بنا کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ 18 نومبر کو لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف کی ریٹائرمنٹ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر فوج کے سینئر ترین جرنیل بن چکے ہیں۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کے لیے سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور پانچویں نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر کے نام زیر غور ہیں۔
آئین میں آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی تفصیلی عمل نہیں دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں سروسز چیفس کی تعیناتی کے حوالے سے آدھا صفحہ بھی نہیں بلکہ صرف چند سطریں درج ہیں۔ چونکہ آئین اور قانون میں کوئی تفصیلی طریقہ کار یا سمری بھیجنے یا واپسی کی واضح ٹائم لائن موجود نہیں اس لیے مروجہ طریقہ کار سے ہی رہنمائی لی جاتی ہے۔ تقرری کی سمری بھیجنے کا روایتی طریق کارمروجہ طریقہ کار کے مطابق آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے پندرہ دن یا دو ہفتے قبل وزیراعظم آفس خط لکھ کر وزارت دفاع سے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری منگواتا ہے۔ اس کے بعد وزارت دفاع آرمی چیف سے ناموں کی لسٹ مانگتی ہے۔ حکومتی رولز آف بزنس کے مطابق کسی بھی سرکاری تعیناتی کے لیے اگر ایک عہدہ خالی ہو تو تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر دو تعیناتیاں کرنا ہوں تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں۔
چونکہ اس وقت آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے دو عہدے خالی ہونے ہیں تو توقع ہے کہ آرمی چیف پانچ نام وزارت دفاع کے ذریعے وزیراعظم کو بھیجیں گے۔ ان میں سے دو عہدوں کے لیے وزیراعظم دو لیفٹیننٹ جنرلز کو پروموٹ کرکے جنرل بنا دیں گے اور انہیں آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کرنے کی سفارش صدر کو بھیجیں گے۔وزیراعظم کو بھیجے گئے ناموں کی فہرست کے ساتھ ہر افسر کی سروس فائل بھی ہوتی ہے جس میں اس کی ماضی کی خدمات کا ذکر ہوتا ہے۔صدر کی منظوری کے بعد آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔اس وقت آرمی چیف کے عہدے کے لیے سینئر لیفٹیننٹ جنرلز میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کے نام شامل ہیں۔
سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین کا کہنا ہے کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے خط و کتابت دستی طور پر کی جاتی ہے اور افسران یہ سمری لے کر وزارت دفاع سے وزیراعظم ہاؤس جاتے ہیں۔‘
’وزیراعظم ہاؤس سے بھی افسران خود اسے لے کر ایوان صدر جاتے ہیں اور واپس لاتے ہیں۔ اس سارے عمل کا مقصد اس اہم تعیناتی کی رازداری کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ آصف یاسین کا کہنا ہے کہ ’فوجی افسر کی سینیارٹی کا تعین اس کے کمیشن حاصل کرنے کی تاریخ سے کیا جاتا ہے اور ساری زندگی کے لیے وہی تاریخ اس کی سینیارٹی متعین کر دیتی ہے۔ آرمی چیف کو پانچ اہل افراد کی لسٹ سینیارٹی کی ترتیب سے بھیجنا ہوتی ہے تاہم روایتی طور پر آرمی چیف کے عہدے کے لیے تعینات ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ فائٹنگ کور سے ہو اور اس نے ایک سال تک کسی کور کی کمان بھی کی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کے لیے اہلیت یہ ہے کہ متعلقہ افسر اس وقت آرمی کا یونیفارمڈ آفیسر ہو اور اس نے مدت ملازمت میں توسیع نہ لے رکھی ہو۔
آرمی سے متعلق قوانین کے ماہر کرنل انعام الرحیم نے کہا کہ ’آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے آئین میں طریق کار درج ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات آرمی ایکٹ میں بھی موجود نہیں ہیں۔‘ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’آرمی چیف بننے کے لیے ایسی کوئی قدغن آرمی ایکٹ میں موجود نہیں کہ متعلقہ جنرل ایکسٹینشن پر نہ ہو۔‘
