صدر کا انتخاب:آصف زرداری بمقابلہ محمود خان اچکزئی

آصف زرداری بمقابلہ محمود اچکزئی؟صدارتی انتخاب کیلئے قومی اسمبلی اورچاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کاعمل جاری ہے
صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 10 بجے شروع ہوا جو شام 4 بجے تک جاری رہے گا، قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین انتخاب میں اپنا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں۔
سب سے پہلا ووٹ پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ نے کاسٹ کیا، وزیراعظم شہباز شریف، صدارتی امیدوار آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور اسحاق ڈار نے بھی ووٹ کاسٹ کیے۔
صدارتی انتخاب میں حکومتی اتحاد کی جانب سے سابق صدر آصف زرداری اور سنی اتحاد کونسل و دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی امیدوار ہیں۔
صدارتی الیکشن میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کیلئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور پنجاب اسمبلی کیلئے الیکشن کمیشن کے ممبر نثار درانی کو پریذائیڈنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔سینیٹر شیری رحمان کو آصف علی زرداری کی پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سینیٹر شفیق ترین، محمود خان اچکزئی کے پولنگ ایجنٹ ہیں۔
سندھ اسمبلی کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ، خیبرپختونخوا اسمبلی کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور بلوچستان اسمبلی کیلئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ پریذائیڈنگ افسر ہیں۔سیکرٹری سندھ اسمبلی نے ایوان کو صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے اور سندھ اسمبلی کی عمارت الیکشن کمیشن کے حوالے کر دی گئی ہے۔
سندھ اسمبلی میں مجموعی طور پر 162 ارکان نے حلف اٹھایا ہے، ایوان میں پیپلز پارٹی کے 116، ایم کیو ایم کے 36 اور جماعت اسلامی کا ایک رکن ہے جبکہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے آزاد اراکین کی تعداد 9 ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی ہال کو صدارتی انتخابات کیلئے پولنگ اسٹیشن کا درجہ دے دیا گیا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ محمد ابراہیم پریزائڈنگ افسر ہوں گے۔
