آصف زرداری کا اعزاز،دوسری بار صدرمملکت منتخب ہوں گے

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری پاکستانی تاریخ میں دوسری مرتبہ صداری انتخاب لڑنے والے پہلے سیاست دان ہیں اور یہ الیکشن جیتنے کی صورت میں وہ واحد شخصیت ہوں گے جو دوسری مرتبہ صدر مملکت کے عہدے پر براجمان ہوں گے۔
پہلے اگرچہ پرویز مشرف بھی دو مرتبہ صدر کے عہدے پر براجمان ہوئے تھے لیکن 2001 سے 2007 تک ان کا عہد صدارت کسی انتخابی عمل کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ 20 جون 2001 کو انھوں نے اپنے آپ کو خود ہی صدرِ مملکت تعینات کر لیا تھا۔ تاہم 2002 میں انھوں نے اپنی صدارت کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے متنازع ریفرنڈم کا سہارا لیا تھا۔
سنہ 2007 میں وہ دوبارہ باوردی صدر منتخب ہوئے۔ وردی میں الیکشن لڑنے کی اجازت انھیں سپریم کورٹ نے دی تھی تاہم بعد ازاں وردی اترنے اور نئی حکومت کی جانب سے مواخذے کے اعلان کے بعد 2008 میں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
آئین کے مطابق ’کسی صوبائی اسمبلی میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹوں کی تعداد کو اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں فی الوقت سب سے کم نشستیں ہوں ضرب دیا جائے گا اور اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں ووٹ ڈالے گئے ہوں تقسیم کیا جائے گا۔‘
بلوچستان اسمبلی کا ایوان سب سے کم ارکان پر مشتمل ہے جہاں 65 اراکین ہیں۔ اس طرح بلوچستان کے 65 ارکان کو پنجاب کے 371 کے ایوان پر تقسیم کیا جائے تو پنجاب اسمبلی کے 5.7 ارکان کا ایک صدارتی ووٹ تصور ہو گا۔
اسی تناسب سے 168 اراکین پر مشتمل سندھ اسمبلی کے ایوان میں 2.6 ارکان کا ایک ووٹ تصور ہو گا اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 145 ارکان کے ایوان میں 2.2 ارکان کا ایک ووٹ شمار ہو گا۔
صدارتی انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہو گا اور ہر رکن کو ایک بیلٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ جس رکن کو بیلٹ پیپر جاری کیا جائے گا اس کے نام کا اندراج کیا جائے گا جبکہ بیلٹ پیپر پر متعلقہ پریذائیڈنگ افسر کے دستخط ہوں گے۔
بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے نام حروف تہجی کے نام سے درج ہوں گے اور ووٹ دینے والا رکن پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر ووٹ دے گا۔
الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل متعلقہ ایوان یا اسمبلی کے ممبران میں سے ایک ایک پولنگ ایجنٹ نامزد کر سکتے ہیں جو پولنگ اور گنتی کے عمل کا مشاہدہ کرے گا۔
صدارتی انتخاب میں جس امیدوار کے ووٹ مدمقابل حریف سے زیادہ ہوں گے وہ کامیاب تصور ہو گا۔
