آنکھوں کے انجکشن اویسٹین کےاستعمال کی دوبارہ اجازت مل گئی

آنکھوں کے انجکشن سے مریضوں کی بینائی جانے کے بعد پنجاب حکومت نے اویسٹین انجکشن کے استعمال کی دوبارہ اجازت دے دی۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق شوگر کے مریضوں کی بینائی بچانے کے لیے استعمال کی دوبارہ اجازت دی گئی ہے۔
نوٹیکفیشن کے مطابق محکمہ صحت پنجاب نے اویسٹن انجکشن کے استعمال کے لیے نئے ایس او پیز جاری کر دیئے۔انجکشن ایک اسپتال دوسرے اسپتال کو نہیں بیچ سکتا۔اسپتالوں سے اویسٹن انجکشن کو سرنجز میں بھر کر باہر بھیجنے پر پابندی عائد کی گی ۔انجکشن ایک شہر سے دوسرے شہر میں بیچنے پر بھی پابندی لگ گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انجکشن صرف رجسٹرڈ اور لائنسیز یافتہ فارمیسیز پر فروخت ہوسکے گا۔سرکاری اسپتالوں، رجسٹرڈ ماہر امراض چشم کو مجاز ڈسٹری بیوٹرز سپلائی کر سکیں گے۔ انجکشن کو سرنج میں بھرنے کے لئے آپریشن تھیٹر یا کلاس ون جگہ کا ہونا ضروری ہوگا ۔تمام سرکاری اور پرائیوٹ اسپتال خود فارمیسی ڈسٹربیوٹرز سے براہ راست انجکشن خریدیں گے۔انجکشن بھرنے والا طبی عملہ کا میڈیکل ریکارڈ چیک ہوگا۔
انجکشن بھرنے کی جگہ کا ہر سال بعد فٹنس چیک کرنا لازمی ہوگا۔ڈاکٹر ایک انجکشن کو کھولنے بعد اسے دوبارہ استعمال نہیں کر سکتا۔پوسٹ گریجویشن کےبعد تین سال کا تجربہ والا ڈاکٹرانجکشن لگا سکے گا۔انجکشن لگانے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی جائے گی،گزشتہ سال ستمبر میں اویسٹن انجکشن سے مریضوں کی بینائی جانے کا اسکینڈل بے نقاب ہوا تھا۔انجکشن لگنے سے 70 سے زائد افراد بینائی سے محروم ہوگئے تھے۔
