آن لائن گیم پب جی کی وجہ سے پاکستانی نوجوانوں کی خودکشیاں

https://www.youtube.com/watch?v=9MyrcYJPp9Y&t=1s
دنیا کے مختلف ممالک میں بھیانک اثرات دکھانے والی آن لائن گیم پب جی کھیلتے ہوئے 2 پاکستانی نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس گیم پر کس طرح پابندی لگائی جائے۔ نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس حکام نے ویڈیو گیم ’پب جی‘ سمیت ایسی تمام پُرتشدد گیمز اور آن لائن پیجز کو بلاک کرنے کیلئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم نفسیاتی ماہرین کے مطابق ویڈیو گیمز کی وجہ سے نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
اطلاعات کے مطابق لاہور کی ملتان روڈ کے رہائشی، 16 سالہ نوجوان نے خودکشی کا فیصلہ اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اسے آن لائن گیم کھیلنے سے بارہا منع کیا جس پر اس نے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کر لی۔پولیس کے مطابق خودکشی کرنے کے بعد بھی اس کے موبائل پر پب جی گیم چل رہی تھی جبکہ اس واقعہ سے دو روز قبل بھی شہر کے ایک اور 20 سالہ نوجوان نے اسی گیم کی وجہ سے اپنے آپ کو پنکھے سے لٹکا کر اپنی جان لے لی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آن لائن گیم میں کامران کو گیم کی طرف سے ٹاسک ملا تھا جو اس سے پورا نہیں ہوا اور اس نے خود کشی کر لی۔ لاہور پولیس کے مطابق شہر میں چار روز میں دو نوجوانوں نے ویڈیو گیم ’پب جی‘ کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کر لی ہے، جس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایسی تمام پُرتشدد گیمز اور آن لائن پیجز کو بلاک کرنے کے لیے پی ٹی اے کو درخواست دی جائے گی۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کا کہنا ہے کہ تشدد کو فروغ دینے والی گیمز کے باعث نوجوانوں میں خودکشی کرنے کا رجحان بڑھنا ایک افسوک ناک اور تشویش ناک عمل ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کا کام صرف مجرموں کو پکڑنا ہی نہیں ہے۔ہماری اور بھی ذمہ داریاں ہیں جیسے کہ کمیونٹی پولیسنگ جس کے تحت ہمیں اپنے معاشرے میں شدت پسندی اور رویوں میں تبدیلی آنا اور ان پر نظر رکھنا بھی ہماری ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ایک درخواست دیں گے کہ وہ پب جی سمیت ایسی تمام گیمز جس میں تشدد کا عنصر پایا جاتا ہے، انھیں بلاک کر دیا جائے تاکہ صارفین تک ان کی رسائی نہ ہو۔’ واضح رہے کہ دنیا بھر میں پب جی گیم کھیلی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ سے اس کے منفی اثرات کی شکایات آنے بعد گیم میں ایک اور فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس کی مدد سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کا سکرین ٹائم بہت زیادہ ہو گیا ہے اس لیے اب گیم کو بند کر دیں لیکن یہ اب یہ کھیلنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے وقت پر بند کرتا ہے یا پھر کھیلتا رہتا ہے۔ دوسری طرف پب جی کھیلنے والے ایک صارف نے بتایا کہ یہ گیم ایک مشن کے تحت کھیلا جاتا ہے جس میں دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے اور اس کے لیے بندقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔صارف نے بتایا: ‘گیم ہم اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور ایک سے زائد لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے دفاع کے لیے ہمیں دشمن کو مار کر گیم جیتنی ہوتی ہے۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ یہ گیم آن لائن چل رہی ہوتی ہے اس لیے اس دوران آپ اس گیم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کھانا کھانے جا رہے یا کسی بھی کام کے لیے اٹھیں گے تو دوسری پارٹی آپ کو مار دے گی۔’
تاہم ماہرین نفسیات پب جی سمیت دیگر ویڈیو گیمز کو خودکشی کے رجحان میں اضافے کا سبب ماننے سے انکاری دکھائی دیتے ہیں۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر نفسيات ڈاکٹر فرح ملک کا کہنا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ کسی بچے یا نوجوان نے صرف گیم کی وجہ سے خودکشی کی تو یہ غلط ہوگا کیونکہ ایس ممکن نہیں ہے کہ خود کشی کرنے کی صرف ایک وجہ ہو۔انھوں نے بتایا کہ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو کرونا کی وجہ سے ہر شخص ہی اس وقت الجھن اور مایوسی کا شکار ہے اور بچوں میں یہ رویا زیادہ اس لیے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ وہ اپنی پریشانی کا اظہار با آسانی نہیں کرتے ہیں۔انھوں نے مزيد بتایا کہ جو بچے خود کشی جیسا بڑا قدم اٹھاتے ہیں ان کی شخصیت میں پہلے سے ہی ایسے خیالات موجود ہوتے ہیں اور اس کی وجہ صرف ایک عنصر نہیں ہے۔مڈاکٹر فرح کا مزيد کہنا تھا کہ نفسیات کی زبان میں ایسے بچے جو خودکشی کرسکتے ہیں انھیں ‘جووینائل’ یعنی کمسن اور نوعمر کہتے ہیں۔عموماً ان بچوں میں کچھ علامات پائی جاتی ہیں جیسا کہ کسی کی بات نہ سننا، برداشت کم ہونا، لڑنا جھگڑنا، حالانکہ اپنی عمر کے بچوں سے بھی، والدین اگر کسی بات سے روکیں تو اس پر شدید ردعمل دینا وغیرہ دینا شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایسے بچوں کو روکنے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم انھیں سمجھیں اور پیار سے سمجھائیں اور اس عمل کو والدین کو چھوٹی عمر سے ہی شروع کر دینا چاہیے۔ کوشش کریں کہ بچوں کے ساتھ ہر چیز میں خود حصہ لیں۔ ان کے دوست بننے کی کوشش کریں اور ان کی مسائل کو حل کریں۔’
خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی پب جی نامی گیم کو بند کروانے کے لیے صوبے کی ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی معروضات سننے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدائت نامہ جاری کیا تھا کہ وہ اس گیم سے متعلق نقصانات کا اندازہ کر کے کوئی پالیسی مرتب کرے تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی پالیسی سامنے نہیں آ سکی۔
