آڈیٹر جنرل نے بی آر ٹی پشاور پر حکومت کو چارج شیٹ کر دیا

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ کے بخیے ادھیڑتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی نا اہلی، ناقص پلاننگ، بے ضابطہ ادائیگیوں اور نگرانی کے فقدان سے اب تک قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی پراجیکٹ کی منصوبہ بندی میں نقائص تھے اور تعمیراتی کام تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن تیار کیے بغیر ہی شروع کر دیا گیا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو تمام تر اعتراضات کے باوجود جلدی میں عام انتخابات سے پہلے شروع کیا گیا اور اس حوالے سے منصوبہ بندی کا عمل اس قدر کھوکھلا تھا کہ حکام اسکی تکمیل کیلئے موزوں اور قابل قبول وقت کا تعین بھی نہ کر سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیرات کے پورے مرحلے میں یہ بات دیکھنے کو ملی کہ منصوبے کیلئے منتخب کیے گئے تنگ راستے یا ’’رائٹ آف وے‘‘ اس کیلئے کسی بھی صورت موزوں نہیں تھے جن پر کہ بی آر ٹی کوریڈور تعمیر کیا جا سکے۔ اب یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ کئی اسٹیشنوں پر اسٹیشن کا داخلہ نامناسب لگتا ہے اور یونیورسٹی روڈ پر دکانوں کے سامنے اور رہائشی گلیوں کے سامنے اور حیات آباد ٹاؤن شپ میں گھروں کے کونے پر پورا ڈھانچہ نظر آرہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی آر ٹی کوریڈور کے ابتدائی ڈیزائن کیلئے شروع کیے گئے منصوبوں کے حوالے سے اور بعد میں ڈی ای ڈی کے مرحلے پر آڈٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ پیسے ضائع کیے گئے ہیں کیونکہ منصوبہ بندی کے عمل میں بصیرت کا فقدان تھا۔
رپورٹ میں منصوبے سے ہونیوالے اربوں روپے کے نقصانات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جن میں غیر مجاز تبدیلیوں سے ہونیوالا 10.4 ارب روپے کا نقصان، کنکریٹ کی اضافی مقدار کی فراہمی سے 20 کروڑ روپے کا نقصان، توڑ پھوڑ کے بعد حاصل ہونے والے سامان کی ریکوری نہ ہونے سے 5 کروڑ 48لاکھ روپے کا نقصان، تنخواہوں کے متعین کردہ نظام کی عدم موجودگی میں کی جانے والی ادائیگیوں سے ساڑھے 9کروڑ روپے کا نقصان، سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی رقم سے حاصل ہونے والا منافع سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے سے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان، افسران کو غیر مجاز انداز سے ہونیوالی ادائیگیوں سے ساڑھے 4 کروڑ روپے کا نقصان، مالیاتی گوشواروں میں حاصل ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کے سود کا ذکر نہ کرنا، سالانہ 1.6 ارب روپے کی سبسڈی کے متعلق منظور شدہ پی سی ون اور بزنس ماڈل میں میں تضادات ہونا۔تزئین و آرائش پر 71 کروڑ 60 لاکھ روپے کا فضول خرچ، سڑکوں کی تعمیرات اور بجلی کے کام، 7.9 ارب ڈالرز خرچ کر کے بی آر ٹی پروجیکٹ کی بسیں قبل از وقت خریدنا، بسوں سے کوئی آمدنی بھی نہیں ہوئی اور ان کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے جبکہ ان کا وارنٹی کا عرصہ بھی ختم ہونے والا ہے۔بسیں سڑکوں پر آئی ہی نہیں اور ان کی قدر میں ہونے والی کمی سے ہونے والا ایک کروڑ روپے کا نقصان، کارکردگی کا جائزہ لیے بغیر 61؍ کروڑ 50؍ لاکھ روپے اور 1.97؍ ملین ڈالرز کا دیا جانے والا تعمیرات کی نگرانی کا ٹھیکہ؛ جرمانے اور لیکوئڈٹی پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والے 1.9؍ ارب روپے مالیت کے نقصانات وغیرہ شامل ہیں۔
رپورٹ میں ماہرین کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ 2018ء کے عام انتخابات کی وجہ سے اس پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے سیاسی دبائو پروجیکٹ کے ڈیزائن اور اس پر عملدرآمد پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی پلاننگ کا عمل اس قدر کھوکھلا تھا کہ وہ پروجیکٹ کی تکمیل کا مناسب وقت تک طے نہ کیا جا سکا۔ پروجیکٹ پر عملدرآمد کے دوران منصوبہ بندی کی تمام خامیاں ظاہر ہوگئیں۔ اس میں بسوں کی قبل از وقت خریداری بھی شامل ہے۔ تجرباتی بنیادوں پر بسیں چلانے کیلئے حاصل کی گئی ان بسوں اور ڈرائیوروں کی تربیت پر ہونے والے اخراجات کے نتیجے میں بسوں کی مینٹی ننس پر رقم ضایع ہوئی کیونکہ یہ بسیں بیشتر عرصہ کھڑی ہی رہیں۔ یاد رہے کہ بی آر ٹی پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے ابتدائی تخمینہ 49.34؍ ارب روپے لگایا گیا تھا جو اب تبدیل کرکے 66.4؍ ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
