آڈیٹر جنرل نے PTI کے بلین ٹری منصوبے کی دھجیاں اڑا دیں

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کے بلین ٹری منصوبے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پراجیکٹ سبز انقلاب لانے میں ناکام رہا چونکہ اسے بغیر فزیبیلٹی کے شروع کیا گیا جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایک بلین درخت لگانے کا یہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اندھادھند سفیدے کے درخت لگانے سے ماحولیات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
آڈیٹر جنرل رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سرکار کا فلیگ شپ پروجیکٹ بلین ٹری منصوبہ گرین ریوولوشن لانے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور30 ہزار ہیکٹرز رقبے کی بجائے صرف 19ہزار ہیکٹرز رقبے پر ہی پودے لگائے جاسکے۔ اس پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگلات اگانے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت نے جو سبز انقلاب لانے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ خام خیالی ثابت ہوا۔
گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کو پیش کی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی میں بنیادی نقائص تھے کیونکہ اسے بغیر کسی فزیبلٹی اسٹڈی کے شروع کیا گیا، اس کے اخراجات اور تکمیل کا وقت تبدیل ہوتا رہا اور محکمہ جاتی نرسریوں سے اضافی ریٹ ملنے کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصانات ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کے معاملے میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ یا پی ایم یو نے غیر موثر کردار ادا کیا۔ رینج لینڈ یعنی مویشیوں کیلئے زمین اورچراگاہوں کا انتظام و انصرام کسی جواز کے بغیر ہی چھوڑ دیا گیا۔ پی سی ون میں وضع کردہ تعداد سے زیادہ یوکلپٹس یعنی سفیدے کا درخت اگایا گیا جس سے ماحولیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، مختلف فاریسٹ ڈویژنوں کیلئے مختص کردہ فنڈز پی سی ون میں بتائی گئی رقم سے مختلف رہے، پروجیکٹ فنانسنگ کے معاملات نے پروجیکٹ پر عملدرآمد اوراس کی ٹائم لائن سمیت کئی مختلف امور پر منفی اثرات مرتب کیے۔ آڈٹ ٹیم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سات فاریسٹ ڈویژنوں میں کلوژر کی ناکامی انتہائی زیادہ تعداد یعنی 14 فیصد رہی۔
یہ بھی بتایا گیا کہ نجی افراد کو غیر شفاف انداز سے نرسریوں کی الاٹمنٹ، محکمہ جاتی نرسریوں میں تخمی پودوں کے اضافی نرخ، جنگلات اگانے کیلئے مختص زمین کیلئے نرخوں کی عدم ادائیگی، غیر مصدقہ بیجوں کی خریداری اور نگرانی و حفاظتی سروسز کیلئے کی گئی اضافی ادائیگیاں وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ پر مالی لحاظ سے براہِ راست اثرات مرتب ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق پروجیکٹ پر عملدرآمد کے معاملے میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس سے مثبت نتائج کے حصول کا عمل سنگین مسائل کا شکار رہا۔ پروجیکٹ کی فنانسنگ بے ترتیب رہی جس سے پروجیکٹ کی تکمیل کے وقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پروجیکٹ کے بجٹ میں ایسی تبدیلیاں کی جاتی رہیں جو پی سی ون میں مختص کردہ رقم سے مختلف رہیں۔
بلین ٹری سونامی پروجیکٹ میں سب بڑی خامی یہ سامنے آئی کہ اس بڑے منصوبے کی باقاعدہ فزیبلٹی اسٹڈی نہیں کرائی گئی جس کے نتیجے میں منصوبہ بندی اور پروجیکٹ پرعملدرآمد میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ پروجیکٹ کیلئے سفیدے یا یوکلپٹس کی منظور شدہ تعداد صرف 10؍ فیصد تھی لیکن یہ اس سے زیادہ اگا دیا گیا۔ پہلے میں مرحلے میں 7؍ فیصد جبکہ دوسرے مرحلے میں 34؍ فیصد یوکلپٹس زیادہ اگایا گیا۔ پاکستان جیسے ملک، جہاں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے وہاں یہ قدم تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یوکلپٹس پانی کے ذخائر پر شدید منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگرچہ یہ پودا لگا کر شجرکاری کے مقاصد تو حاصل کر لیے گئے لیکن شجرکاری کا معیار انتہائی خراب ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات ماحولیاتی لحاظ سے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
