ابصار عالم نے جنرل فیض کیخلاف حلفیہ بیان کیوں دیا؟

سابق چیئرمین پیمرا اور سینیئر صحافی ابصار عالم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں پورے نظام کی خرابی کی بات کی ہے، کسی جنرل کا نام ذاتی رنجش میں نہیں لیا۔ میرا مقصد کسی کو سزا دلوانا یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج کر اپنی انا کی تسکین نہیں ہے، میرا مقصد عوام کی بھلائی ہے۔ میرے لیے اہم یہ ہے کہ جن چند لوگوں کی وجہ سے ملک اور قوم کا نقصان ہوا، اعتراف جرم کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔ فیض آباد دھرنا کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو سزا ملے یا نہ ملے سچ سامنے لانا اور غلطی ماننا بہت ضروری ہے تاکہ ملک درست سمت پر گامزن ہو سکے۔

وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ابصار عالم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں ان کے بیان حلفی کے بعد جنرل فیض نے ان کے قریبی دوستوں سے ملاقات کی خواہش کی ہے مگر خود ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں ابصار عالم کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں کلمہ طیبہ پڑھ کر اس لیے فیض آباد کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی یقین دہانی کروائی کہ اس ملک میں اعتماد کا فقدان ہے اور وہ چاہتے تھے ان کی بات کا یقین کیا جائے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بطور چیئرمین پیمرا ان پر سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید نے دباؤ ڈالا تھا اور انہیں کہا تھا کہ فیض آباد میں پرتشدد دھرنا کی کوریج اور ملک میں فساد پیدا کرنے والے چینل 92 کو فوراً کھول دیں ورنہ سارے نیوز چینل بند کردیں۔ ان کے انکار پر ان کے خلاف عدالتی کیسزکے ذریعے چند ماہ میں انہیں نوکری سے نکلوا دیا گیا تھا۔ابصار عالم گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوئے تھے اور دوران سماعت عدالت کو یقین دلایا تھا کہ فیض آباد دھرنا کے حوالے سے تشکیل پانے والے کمیشن میں پیش ہوں گے۔

اس سوال پر کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں کیوں بیان حلفی جمع کروایا ان کا کہنا تھا کہ فیض آباد کیس کے فیصلے میں پیمرا کے حوالے سے کچھ ریمارکس آئے تھے جس کا جواب دینا ضروری تھا اور ان کو صحافی دوستوں نے رابطہ کرکے ان کے تاثرات لیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ کے ریمارکس میں کہا گیا تھا کہ کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ عدالت جمع کروائے۔سابق چئیرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ وہ سرکاری عہدے پر تھے اس لیے انہوں نے اپنے دور میں ہونے والے واقعات پر عوام کو جواب دینا ضروری سمجھا۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ انہیں کمیشن کے حوالے سے اعتماد تو ہے مگر چند خدشات ہیں جس کی وجہ سے وہ چاہتے ہیں کہ اس کی کارروائی لائیو دکھائی جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ ابصار عالم سے کیا سوالات ہوئے اور انہوں نے کیا جواب دیے۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو بھی اس کیس کو لائیو کرنے کی درخواست کرنی چاہیے تاکہ تاریخ میں درج ہو کہ ایک صحافی نے مشکل حالات میں سچ بولا تھا۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ عوام کے سامنے یہ مثال ہو کہ غیر آئینی اور غیر قانونی احکامات کے خلاف بغیر تشدد کے مزاحمت کی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس دھرتی کے لوگوں سے اور ملک سے پیار ہے ۔ان کا مقصد سزائیں دلوانا نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں آئین اور قانون کی بالادستی ہو اور یہاں کا نظام درست ہو۔

ابصار عالِم کے مطابق پورے دو سال میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کرتا رہا اور میرے خلاف مختلف ہتھکنڈے آزمائے گئے۔ لاہور ہائی کورٹ میں میرے خلاف پٹیشن میری تعیناتی سے بھی پہلے دائر کر دی گئی تھی مگر فیض آباد دھرنے کے بعد اس پر روزانہ کی بنیاد پہ سماعت شروع ہو گئی اور مجھے فارغ کر دیا گیا۔ ابصار عالم کا مزید کہنا تھا کہ میں پرو اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوں اس لیے میرے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔ جب میں پیمرا سے نکلا تو 20 سے 26 شہروں میں میرے خلاف ایف آئی آرز درج تھیں۔ جب میرے خلاف تمام پرچے ناکام ہو گئے تو پھر اس کے بعد مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے یہ ان کا اپنا بویا ہوا ہے جسے اب کاٹ رہے ہیں۔

Back to top button