الیکشن کی تاریخ کا اعلان، بلوچستان  کی سیاست بدلنے لگی

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کی مشاورت کے بعد عام انتخابات کے لیے 8 فروری 2024 کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ بلوچستان میں جہاں موسم کا پارہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتا جارہا ہے وہیں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ صوبے کے اہم سیاسی و قبائلی رہنما اس وقت مرکز کی سیاسی جماعتوں کی آغوش میں سماتےنظر آ رہے ہیں۔

بلوچستان کی سیاست میں ہلچل اس وقت بڑھی جب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما ایاز صادق کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے اہم سیاسی و قبائلی رہنماوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خاص بات تب نظر آئی جب ایاز صادق مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کے ہمراہ ساراوان ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں نے نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کی۔ملاقات میں ایاز صادق نے لشکری رئیسانی کو مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی دعوت دی جس کا انہوں نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ساتھیوں کی مشاورت کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کروں گا۔یہاں دلچسپ صورتحال یہ پیدا ہو رہی ہے کہ ساراوان ہاؤس میں ایک ہی چھت تلے مرکز کی 3 سیاسی جماعتوں کے رہنما موجود ہیں جن میں سے 2 آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں مختلف پلیٹ فارم سے حصہ لیں گے۔ کیونکہ چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی نے گزشتہ برس اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام ف میں شمولیت اختیار کی تھی اس دوران نوابزادہ سراج رئیسانی کے صاحبزادے جمال رئیسانی نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا دامن تھام لیا اور اب متوقع طور پر نوابزادہ لشکری رئیسانی مسلم لیگ ن کو پیارے ہونے جارہے ہیں۔بات کی جائے جمال رئیسانی کی تو اس وقت وہ نگراں کابینہ میں وزیر کھیل کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس صورت حال میں وہ تو عام انتخابات میں حصّہ نہیں لے سکتے تاہم نواب اسلم رئیسانی اور لشکری کے درمیان مقابلہ دلچسپ اور دیکھنے والا ہوگا۔

اس دلچسپ صورتحال پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی عبدالخالق رند نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساراوان قبیلے کا سردار گھرانہ ہمشیہ سے وفاق کی سیاست میں بلوچستان کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔اس گھرانے سے تعلق رکھنے والے غوث بخش رئیسانی فیڈریشن کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں، اب ساراوان قبیلے سے نواب اسلم رئیسانی، نوابزادہ لشکری رئیسانی اور شہید سراج رئیسانی کے صاحبزادے جمال رئیسانی صوبے کی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی قباحت نہیں کہ ایک ہی خاندان کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں کا حصّہ ہوں کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ 2 بھائیوں کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔عبدالخالق رند نے بتایا کہ آئندہ ہونے والے عام انتخابات میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف جماعتوں کا حصہ ہیں کیونکہ جمال رئیسانی ویسے تو پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں لیکن نگران کابینہ میں وزارت کے بعد وہ آئندہ عام انتخابات میں امیدوار نہیں بن سکیں گے۔دوسری جانب نواب اسلم رئیسانی مستونگ کے حلقے سے انتخابات میں حصّہ لیتے ہیں جبکہ لشکری رئیسانی کوئٹہ کے حلقے میں انتخابی دنگل میں اترتے ہیں ۔

جہاں تک اگر بات کی جائے ایک ہی چھت تلے 3 سیاسی رہنماؤں کا 3 مختلف جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کی تو ماہرین اسے ہی جمہوریت کا حسن کہتے ہیں۔ اس سے تاثر یہی ملتا ہے کہ ہر گھر میں ہر فرد بااختیار ہے کہ وہ اپنے نظریہ کے تحت مرضی جس سیاسی جماعت کا حصہ بنے۔ماضی میں بھی بلوچستان میں ایسی مثالیں موجود رہی ہیں کہ ایک ہی گھر کے مختلف افراد مختلف سیاسی جماعتوں کا حصہ رہے ہیں۔تاہم ضروری یہ نہیں کہ کون کس سیاسی جماعت میں ہے ضروری یہ ہے کہ یہ رہنما اقتدار میں آکر صوبے کے عوام کے لیے بہتر فیصلے کر سکے۔

صوبے کے ایک اور سینیئر صحافی کفایت علی کے مطابق نواب اسلم رئیسانی اور لشکری رئیسانی ماضی میں بھی کھبی آزاد تو کھبی مرکز یا صوبے کی قوم پرست سیاسی جماعت کا حصہ رہے ہیں اور یہ گھرانہ ہمشیہ سے صوبے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔بلوچستان کی سیاست کی خاص بات یہ بھی رہی ہے کہ سیاسی جماعتوں سے زیادہ شخصیات انتخابات میں اپنی جگہ بناتی ہیں تب ہی تمام سیاسی جماعتیں ان رہنماؤں کو اپنی جانب مائل کرتی رہتی ہیں۔لشکری رئیسانی کا مسلم لیگ ن کو خوش آمدید کہنا اس بات کی عکاسی کررہا ہے کہ آئندہ صوبے میں مسلم لیگ ن بڑی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔

Back to top button