ڈالر کی قیمت میں اضافہ، مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ؟

ڈالر کی قدر میں کمی سے سستی ہونے والی اشیا ایک مرتبہ پھر اوپر جاتے ڈالر کے ساتھ مہنگی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ تمام درآمد شدہ اشیا کی قیمتیں کم ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے، قیمتوں میں فوری طور پر کمی نہ ہونے کی بنیادی وجہ کارخانوں میں ذخیرہ کیا ہوا وہ مال ہے جسے مہنگے داموں خریدا گیا ہوتا ہے یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جن درآمد شدہ اشیا کی قیمتوں میں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی، ان میں واقعی کمی ہو گی یا نہیں؟معاشی ماہر مزمل اسلم نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر ہول سیل مارکیٹ میں ظاہر ہوتے ہیں لیکن ریٹیلر کو قیمتیں کم کرنے میں وقت لگتا ہے اور وہ پرانی قیمتوں پر ہی اشیا فروخت کر رہا ہوتا ہے، اس لیے صارفین کو اس کا فائدہ اتنی جلدی نہیں ہوتا۔مزمل اسلم نے مزید کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ عالمی منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی قومی سطح پر بھی فوری طور پر قیمتیں بڑھ جاتی ہیں لیکن جب قیمتیں گرتی ہیں تو اس میں وقت لگ جاتا ہے جیسا کہ اب ڈالر کی قدر میں پھر سے اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے تو اس صورتحال کے باوجود بھی ٹریکل ڈاؤن ایفیکٹ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی مہتاب حیدر کا کہنا تھا کہ ویسے تو مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی لیکن اگر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھتی ہے تو قیمتیں ریورس ہوں گی، انہوں نے کہا کہ حماس اسرائیل جنگ کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوچکی ہے اور اشیا کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔ علاوہ ازیں اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ہم اپنی اکانومی کیسے لے کر چلتے ہیں جبکہ ٹریکل ڈاؤن ایفیکٹ کا انحصار ان ہی تمام چیزوں پر ہے۔سینئر صحافی خلیق کیانی نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہاں کاروبار کسی اصول کے تحت تو چلتے نہیں ہیں، اس لیے جب ڈالر کا ریٹ بڑھتا ہے تو قیمتیں بھی فوری طور پر بڑھ جاتی ہیں چاہے اشیا کم داموں خریدی گئی ہوں لیکن جب ڈالر کا ریٹ کم ہوتا ہے تو اشیا کی قیمتیں کم ہونے میں وقت لگتا ہے، ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپیہ تقریباً 30 سے 32 روپے تک بڑھا ہے جس کا اثر ضرور آنا چاہئے اور ان دنوں پھر سے ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے تو ابھی تک صرف 2 یا 3 روپے تک کا فرق آیا ہے جس کا قیمتوں پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔

Back to top button