اب تحریک لبیک کو کونسا سیاسی ایجنڈا دیا جائے گا؟

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے تحریک لبیک پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ مستقبل کی سیاست میں اس جماعت کو کیا ایجنڈا دیا جائے گا اور اسے کس جماعت کے خلاف اور کس کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟سوال یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدے کے تحت ٹی ایل پی کا نام کالعدم تنظیم سے نکلنے کے ملکی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے اور آئندہ الیکشن میں یہ پاکستانی سیاست میں کتنا اہم کردار ادا کرے گی؟
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اپریل 2001 میں تحریک لبیک پر پابندی لگانا وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ تھا اور اسٹیبلشمنٹ اس سے متفق نہیں تھی، اسی وجہ سے پابندی اٹھائے جانے تک اس جماعت کو مختلف ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی کا نام دہشت گردی کی دفعات کی بنیاد پر کالعدم تنظیم کی فہرست میں ڈالا گیا تھا تاہم پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت یہ جماعت الیکشن کمیشن میں بدستور رجسٹرڈ تھی اور انتخابی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لے رہی تھی۔ الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں تحریک لبیک کے خلاف ایک ریفرنس دائر کرنا ضروری تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ ہو پایا۔
وفاقی حکومت کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدے کے تحت ٹی ایل پی کا نام کالعدم تنظیم سے نکلنے پر ملکی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے اور آئندہ انتخابات میں ٹی ایل پی پاکستان کی سیاست میں کتنا اہم کردار ادا کرے گی، ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیے مشرق وسطی کی معروف ویب سائٹ اردو نیوز نے چند سیاسی تجزیہ نگاروں سے گفتگو کی اور پوچھا کہ ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کے درمیان انتخابی اتحاد کی خبریں کتنی سنجیدہ ہیں اور کیا تحریک لبیک سے پابندی اٹھانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے؟
اس معاملے پر سیاسی تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی سمجھتے ہیں کہ گذشتہ عام انتخابات میں ٹی ایل پی نے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں شگاف ڈالا تھا کیونکہ ٹی ایل پی کے ووٹرز روایتی طور پر مسلم لیگ ن ہی کے ووٹرز تھے۔ انکا کہنا یے کہ ’جب مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ایسے اقدامات اٹھائے گئے جس سے ملک میں ایک مذہبی تحریک چلانے کے لیے ٹی ایل پی کی بنیاد رکھی گئی اور خادم رضوی نمایاں ہوئے اور ان کی سیاست آگے بڑھی۔ اس لیے مسلم لیگ ن اور ٹی ایل پی کے درمیان فاصلہ کافی زیادہ ہے اور تاحال موجود ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ٹی ایل پی پنجاب میں کچھ مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر بھی اتحاد بنا سکتی ہے لیکن اس وقت مسلم لیگ ن کے ساتھ ان کا اتحاد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اس وقت اشارے تو یہ مل رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے اندر بعض افراد ٹی ایل پی سے اتحاد کے حامی ہیں اور ٹی ایل پی کی طرف سے بھی تحریک انصاف سے اتحاد کے اشارے مل رہے ہیں۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہوسکے گا، فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا۔‘
مجیب الرحمن شامی اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے کہ تحریک لبیک کی وجہ سے 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 17 سیٹیں ہار گئی تھی کیونکہ پی ٹی آئی مخالف جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں کا مارجن اتنا ہی تھا جتنے ووٹ تحریک لبیک کے امیدواروں نے ووٹ لیے۔ شامی کے خیال میں آئندہ انتخابات میں بھی ٹی ایل پی نے وہی کردار ادا کرنا ہے جو گذشتہ انتخابات میں ان سے لیا گیا تھا۔’اگر تحریک انصاف کو ٹی ایل پی نے سپورٹ کیا تو کچھ حلقوں میں ان کو فائدہ ہوسکتا ہے اس کے علاوہ کوئی زیادہ تبدیلی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم نے مجبور ہو کر ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدہ کیا کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن ان کے لیے ٹی ایل پی کے ساتھ اتحاد کرنا کوئی آسان نہیں ہوگا۔‘
’اگر تحریک انصاف ٹی ایل پی کو کوئی فائدہ پہنچائے اور یقین دہانی کرائے کہ آئندہ انتخابات میں ٹی ایل پی کے ممبران کو اسمبلی تک پہنچایا جائے گا، تو دونوں جماعتوں کا اتحاد ہوگا۔‘
پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ٹی ایل پی کا نام کالعدم تنظیم کی فہرست سے نکالنا آئندہ انتخابات کی منصوبہ بندی ہے اور واضح طور پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ سلمان غنی نے کہا کہ ’لاہور کے ضمنی انتخاب میں امکان ہے کہ تحریک انصاف ٹی ایل پی کے امیدوار کی حمایت کرے گی، اور آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کا انتخابی اتحاد کا فیصلہ بھی لاہور کے ضمنی انتخابات میں ہو جائے گا۔ اگر ضمنی انتخاب میں اتحاد ہو گیا تو آئندہ انتخابات میں اتحاد خارج از امکان نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’حال ہی میں حکومت کا فوج سے تعلق خراب ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی حمایت کتنی رہے گی لیکن ٹی ایل پی کا اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد اس کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہوگا۔‘
سلمان غنی کے خیال میں اس وقت تحریک انصاف کو سہاروں کی ضرورت ہے اور ٹی ایل پی کے ساتھ اتحاد سیاسی طور پر ایک بہتر سہارا ہے۔’لیکن ٹی ایل پی کا ایک ایسی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا جس نے ان پر انڈیا سے فنڈنگ لینے کے الزامات عائد کیے کافی نقصان دہ ہوگا اور ٹی ایل پی کا ووٹ بینک متاثر کرے گا۔‘انہوں نے کہا کہ ’ٹی ایل پی تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے کترائے گی کیونکہ اس میں ان کا فائدہ نہیں لیکن کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔
2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک کے امیدواروں نے دیگر جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ ن کا نہ صرف ووٹ بینک توڑا بلکہ درجنوں نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی شکست کا مارجن ٹی ایل پی کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں سے کم تھا۔ 2018 کے انتخابات میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، سابق وزیر مملکت طلال چوہدی، عابد شیر علی سمیت متعدد لیگی رہنما قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں ناکام رہے اور ان کی شکست کا مارجن چند ہزار ووٹ تھے جبکہ ٹی ایل پی کے امیدواروں کے ووٹ شکست کے مارجن سے زیادہ تھے۔ حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان لاہور کے حلقہ این اے 131 میں سعد رفیق کے مقابلے اپنی نشست چند سو ووٹوں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے جبکہ اس حلقے میں تحریک لبیک کے امیدوار کو نو ہزار سے زائد ووٹ ملے تھے۔ گذشتہ انتخابات میں سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن کو 15 سے 20 نشستوں سے تحریک لبیک پاکستان کی وجہ سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔
