اب سیاستدانوں کی کرپشن کی تحقیقات حساس ادارے کرینگے

قومی احتساب بیورو نیب نے جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف،شہباز شریف، آصف علی زرداری سمیت دیگر سیاست دانوں کے خلاف 80 کرپشن کیسز بحال کر دئیے ہیں وہیں دوسری طرف چیئرمین نیب نے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کیلئے حساس اداروں کے افسران کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نیب نے اہم عہدوں پر تقرریوں کیلئے ڈیپوٹیشن پرحساس اداروں سے افسران مانگ لیے ہیں، حساس اداروں کے افسران آئندہ چند روز میں نیب میں کام کرنا شروع کردیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ چیئرمین نیب نذیر احمد کی منظوری سے حساس اداروں کے افسران کی خدمات کیلئے خط لکھ دیا گیا ہے جبکہ نیب میں تمام خالی آسامیوں پربھی فوری طورپرتقرریاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ڈیپوٹیشن پرتعینات ہونے والے انٹیلی جنس افسر و اہلکارنیب دفاترمیں فرائض سرانجام دیں گے اور نیب دفاتر میں مضبوط اور مؤثر انٹیلی جنس سسٹم قائم کیا جائے گا جب کہ احتساب کا عمل تیز اورمؤ ثربنانے کیلئے انٹیلی جنس افسران اور اہلکاروں سے معاونت لی جائے گی، انٹیلی جنس افسران نیب تفتیشی آفیسرز کی معاونت کریں گے۔ذرائع کے مطابق نیب میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے تمام افسران اپنے اسکیل اور تنخواہ پر ہی کام کریں گے، یہ افسران و اہلکار سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تمام کیسزکو چلانے میں بھی معاونت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ ڈپٹی چیئرمین نیب اورپراسیکیوٹرجنرل کے عہدوں پربھی جلد مستقل افسران کا تقررکردیا جائے گا۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نیب نے احتساب عدالتوں سے رجوع کرلیا ہے اور ان سے 50 کروڑ روپے سے کم مالیت والے کرپشن کیسز دوبارہ کھولنے کا کہا ہے۔نیب نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیسز کا ریکارڈ احتساب عدالت میں جمع کروا دیا ہے۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کیس کے فیصلے کے نتیجے میں نیب کیسز بحال ہونے کے بعدکیسز واپس احتساب عدالتوں کو بھجوانے کے لیے تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہےکہ احتساب عدالت میں آج تمام نیب کیسز کا ریکارڈ پیش کیا جائے گا اور اسی سلسلے میں احتساب عدالت نمبر 2 اور 3 کے اسٹاف کو واپس ڈیوٹی پر بلا لیا گیا ہے، اس سے قبل احتساب عدالت 2 اور 3 کے ججز نہ ہونے پراسٹاف دیگر عدالتوں میں تعینات تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر آصف علی زرداری، نواز شریف، مراد علی شاہ، شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر سیاست دونوں کے خلاف 80 کیسز بحال کردیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کا داخل دفتر کیا گیا کیس بھی کھولا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس جبکہ نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ گاڑیوں کا کیس بھی کھل گیا ہے۔ آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹ کیسز بھی بحال ہوگئے ہیں۔
ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نیب نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، تمام صوبوں میں انسداد بدعنوانی کے محکموں، بینکنگ کورٹس اور پولیس کو بھی خط لکھ دیا ہے کہ وہ تمام مقدمات نیب کو واپس بھیج دیں، جو ان محکموں کو ان ترامیم کی وجہ سے بھیج دیے گئے تھے، جن کے تحت نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم کے کیسز کا نوٹس لینے سے روک دیا گیا تھا۔نیب ذرائع نے بتایا کہ تمام عدالتوں اور محکموں سے رجوع کرنے کا فیصلہ چیئرمین نیب کی زیرِ صدارت حالیہ اجلاس میں کیا گیا ہے تاہم نیب اور احتساب عدالتوں کی جانب سے پہلے سے نمٹائے جانے والے کیسز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر طے کیا جا چکا ہے کہ ایسے کیسز کسی قسم کے اقدمات یا تحقیقات کے لیے دوبارہ نہیں کھولے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے نتیجے میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، عمران خان، شہباز شریف، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی اور شوکت عزیز کے خلاف بھی کیسز کھل گئے ہیں۔جن دیگر بڑی شخصیات کے کیسز دوبارہ کھولے گئے ہیں، ان میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، فریال تالپور، سید مراد علی شاہ، جاوید لطیف، اکرم درانی، سلیم مانڈوی والا اور دیگر شامل ہیں۔پی ٹی آئی حکومت میں شامل شوکت ترین، پرویز خٹک، عامر محمود کیانی اور خسرو بختیار کو بھی نیب کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے یا لارجر بینچ اس پر نظرثانی کر سکتا ہے لیکن فیصلہ چیلنج کرنے والوں کو نظرثانی کے لیے ٹھوس وجوہات پیش کرنا ہوں گی، تاہم موجودہ نگران حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی۔گزشتہ ہفتے نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا تھا کہ حکومت نیب قوانین میں ترامیم سے متعلق کیس پر عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ 15 ستمبر کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر نیب ترامیم کو کالعدم دے دیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں، عوامی عہدوں کے ریفرنس ختم ہونے سے متعلق نیب ترامیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں جس کے بعد مختلف سیاستدانوں کے خلاف نیب کے مقدمات بحال ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ نے پلی بارگین سے متعلق ترامیم کالعدم قرار دیتے ہوئے ہوئے نیب کو 7 دن میں ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجنے کا حکم دے رکھا ہے۔
