اتحادیوں کے ساتھ ملکر سینیٹ میں اپوزیشن کو شکست دینگے

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ارکان اسمبلی کے اعزاز میں ظہرانے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق ظہرانے میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق ، ایم کیو ایم ،جی ڈی اے، بلوچستان عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کی قیادت نے شرکت کی۔ذرائع کاکہنا ہے کہ ظہرانے کی تقریب ایک گھنٹہ جاری رہی، اس دوران وزیراعظم انتہائی خوشگوار موڈ میں تھے، ظہرانے میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ،ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اور ڈاکٹر زرقا بھی شریک ہوئیں۔ظہرانے سے وزیراعظم کے علاوہ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے سینیٹ کے لیے امیدوار عبدالحفیظ شیخ اور فوزیہ ارشد نے خطاب کیا۔
ذرائع نے بتایا ہےکہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے خط کو مسترد کرکے بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔تقریب میں تمام ارکان نے یوسف رضا گیلانی کے خط کے جواب کی تحریر پر دستخط بھی کیے۔
ظہرانے سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چوروں کے ساتھ مقابلہ ہے، جیت ہماری ہی ہوگی، سینیٹ میں کم نمائندگی کی وجہ سے ہماری مؤثر آواز نہیں تھی، ہمارے سینیٹرز آئیں گے تو آواز بھی ہوگی اورقانون سازی بھی،محض کرپشن کی وجہ سے اپوزیشن سے ہاتھ نہیں ملایا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ بتائیں کرپٹ لوگوں سے کیسے این آر او کرلوں،عدلیہ کو بھی علم ہے کہ ووٹ چوری ہوتے ہیں، میں نے پوری کوشش کی کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت لائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر بحران میں سرخرو ہوئے ہیں،قرضوں میں جکڑا ملک ملا، معاشی بحران کی وجہ ہی یہ تھی، کہتے تھے ڈالر ڈھائی سو تک پہنچ جائےگا،ہم نے روپے کی قدر کو مستحکم کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف معاملے میں حکومت کے ساتھ نہیں تھی، اپوزیشن فیٹف کے معاملے میں ہی ہمیں فارغ کرنےکے چکر میں تھی،فیٹف میں بھی ہم سرخرو ہوئے اور آئندہ بھی معاملہ حل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ڈھائی سال جم کر حکومت کریں گے،اگلا ٹارگٹ عوام کے مسائل ہیں، ملائیشیا میں بھی مہاتیر محمد کے بعد نواز شریف جیسا انسان آیا تو کرپشن عروج پر تھی۔دوران خطاب وزیراعظم نے کراچی کے ایم این ایز کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ آپ کے ان تین ایم پی ایز کا ضمیر آج جاگا ہے، اس سے قبل ان ایم پی ایز کو یہ مسائل یاد نہیں تھے ،الیکشن کے وقت یہ اس طرح کی گفتگو کر رہےہیں۔

دوسری طرف سینیٹ انتخابات کے موقع پر وزیراعظم عمران خان کی ارکان قومی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں جاری ہیں۔وزیراعظم عمران خان سے اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے علیحدہ ملاقات کی۔ملاقات میں سیاسی صورتحال اور سینیٹ انتخابات پر بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے بعد میڈيا سے گفتگو میں ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ ملاقات میں ہمارے جو تحفظات تھے اور معاہدے میں جو مطالبات تھے، ان کی یاد دھانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے پہلے جیسی ملاقات تھی بہت اچھے ماحول میں ہوئی۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہاکہ وزیراعظم سے ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی اور دفاتر واپس کرنےکی بات کی ہے جبکہ کراچی کے ترقیاتی پیکج پر تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔
