اتحاد کو قائم رکھنا نون لیگ کیلئے چیلنج کیوں بن گیا؟

آئندہ مالی سال 2024 کے بجٹ اور دیگر معاملات پر حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ دونوں طرف سے پس پردہ تحفظات کے اظہار کے بعد اب کھلے جلسوں میں لفظی گولہ باری کا اظہار جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اتحادیوں کو مطمئن کرنے کے لیے اجلاس طلب کرلیا ہے جبکہ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان بھی حکمران اتحاد کی 2 بڑی جماعتوں میں بظاہر سامنے آنے والے اختلافات ختم کروانے کے لئے متحرک ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے نواز شریف اورآصف زرداری سے رابطہ کر کے ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری روکنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد کا سربراہی اجلاس رواں ماہ بلائے جانے کا امکان ہے، مولانا فضل الرحمان نے مشاورت شروع کر دی ہے، پیپلز پارٹی کے بجٹ پر تحفظات کو بھی فوری طور پر سننے اور انہیں ممکنہ حد تک حل کرنے کے لئے بھی روابط شروع ہوچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر قائدین کا مؤقف ہے کہ آئینی مدت کے خاتمے تک حکمران اتحاد قائم رہے، تاکہ اگلے الیکشن کے حوالے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے پر مشاورت کرنے میں آسانی رہی۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومت کو تقریباً تمام اتحادی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، جو مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بھی ہیں، نے ہفتے کو سوات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ ان کی پارٹی بجٹ کی منظوری کے لیے اُس وقت تک ووٹ نہیں دے سکتی جب تک بجٹ کے حوالے سے ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم نے بجٹ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز رکھنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی ٹیم کے کچھ ارکان ان وعدوں کو پورا نہیں کر رہے۔

محض گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے حال ہی میں ایک سیاسی کارکن کی گرفتاری اور تشدد پر احتجاجاً بجٹ پر بات کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ سکھر سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام الدین شیخ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو معیشت کی بہتری میں ’ناکامی‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا، حتیٰ کہ انہوں نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل کو وزارت خزانہ کے عہدے کے لیے زیادہ موزوں قرار دے دیا۔

بلاول بھٹو کے بیان کے ردعمل میں اتوار کے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید سے بےیقینی پیدا ہوگی، ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں جلسوں میں باتیں کرنے سے ہرہیز کرنا چاہیے اور کابینہ کے اندر بیٹھ کر اپنا مؤقف رکھنا چاہیے تاکہ ہم ملک میں کسی سیاسی بےیقینی کو فروغ نہ دیں جو عمران خان کا شیوہ تھا۔

نہ صرف اتحادی جماعتیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی اپنی قیادت میں شامل چند اہم رہنما بھی پارٹی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اس پیش رفت کی تصدیق کے لیے شاہد خاقان عباسی سے رابطہ ممکن نہ ہوسکا، تاہم ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دے چکے ہیں کیونکہ اقتصادی امور میں ان کی تجاویز کو حکومت نے قبول نہیں کیا تھا۔

خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی گزشتہ کئی مہینوں سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں، انہوں نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل اور پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ساتھ ’ری امیجننگ پاکستان‘ کے عنوان سے سیمیناروں کے سلسلے کا آغاز کر رکھا ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے رواں ہفتے وزیراعظم کی اتحادیوں سے کسی متوقع ملاقات کی تصدیق نہیں کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیرکو ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی سے شاہد خاقان عباسی کے استعفیٰ کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے لاعلم ہیں کیونکہ شاہد خاقان عباسی ملک سے باہر ہیں۔

تاہم دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور ان کے تحفظات کے ازالے کیلئے انھیں لندن طلب کر لیا ہے۔

Back to top button