احسان اللہ احسان کیسے فرار ہوا، حقائق سامنے آ گئے

ریاستی اداروں کی زیر حراست تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے سرکاری رہائشگاہ کے پچھلے دروازے سے فرار ہونے کا انکشاف ہوا ہے. ذرائع کا دعویٰ ہے کہ احسان اللہ احسان نے فرار ہونے سے 10 روز قبل اپنے بیوی بچوں کو والدین سے ملوانے کے بہانے ساتھ لایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان پچھلے کافی عرصے سے اپنے فرار کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور منصوبہ بندی کے تحت ہی احسان اللہ احسان نے فرار ہونے سے 10روز قبل اپنے بیوی بچوں کو اپنے والدین سے ملوانے کے بہانے ساتھ لیا اور11 جنوری 2020 کو احسان اللہ احسان پشاور میں اپنی سرکاری رہائش گا ہ کے پچھلے دروازے سے فرار ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق احسان اللہ احسان اب افغانستا ن میں ہیں۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام میں سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ ریاستی اداروں نے جب معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے بیوی بچوں سمیت قید میں ڈال دیا تو انہوں نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر 11 جنوری 2020 کو وہ حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ آڈیو پیغام میں کیے گئے دعویٰ پر رد عمل کے لیے پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کرنے پر فوجی ذرائع نے کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
سوشل میڈیا پر شئیر کیے گئے آڈیو پیغام میں احسان اللہ نے کہا کہ پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد انھوں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا۔ انھوں نے تین برس تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سیکیورٹی اداروں نے انھیں بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔ ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوئے‘۔
دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اوراپنی گرفتاری، اداروں سے ہونے والے معاہدے اور پھر وہاں سے فرار کے حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں دیں گے اور بہت سے چہروں کو بے نقاب کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button