فرار کے بعد احسان اللہ احسان کا پہلا ویڈیو پیغام جاری

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے ریاستی اداروں کی حراست سے اپنے فرار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اب ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے ان کے پاس فرار کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا چونکہ خود کو اداروں کے حوالےکرتے وقت ان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی جا رہی تھی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام میں سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا کہ ریاستی اداروں نے جب معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے بیوی بچوں سمیت قید میں ڈال دیا تو انہوں نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر 11 جنوری 2020 کو وہ حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ آڈیو پیغام میں کیے گئے دعویٰ پر رد عمل کے لیے پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے رابطہ کرنے پر فوجی ذرائع نے کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
سوشل میڈیا پر شئیر کیے گئے آڈیو پیغام میں احسان اللہ نے کہا کہ پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد انھوں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا۔ انھوں نے تین برس تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سیکیورٹی اداروں نے انھیں بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔ ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوئے‘۔
دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اوراپنی گرفتاری، اداروں سے ہونے والے معاہدے اور پھر وہاں سے فرار کے حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں دیں گے اور بہت سے چہروں کو بے نقاب کریں گے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کو ریاستی اداروں نے پچھلے تین برس سے ایک سیف ہاؤس میں بیوی بچوں سمیت رکھا ہوا تھا اور معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اس کا ٹرائل بھی شروع نہیں کیا گیا تھا حالانکہ سانحہ پشاور پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کا اس حوالے سے حکام پر شدید دباؤ تھا۔ تاہم شہید بچوں کے والدین نے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اتنا بڑا دہشت گرد سخت ترین سیکیورٹی کے باوجود ریاستی اداروں کی حراست سے ان کی مرضی کے بغیر فرار ہو سکتا ہے؟
سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ احسان اللہ احسان کے فرار کا پتہ چلتے ہی خفیہ اداروں نے خیبرپختونخوا میں واقع مہمند ڈسٹرکت کے سگی بالا گاؤں میں چھاپہ مار کر احسان اللہ کے والد شیر محمد، بھائی شفیق اور چچا شیر بادشاہ کو گرفتار کرلیا تھا تاکہ احسان کے ٹھکانے کا سراغ لگایا جا سکے تاہم خفیہ ادارے تاحال احسان اللہ، اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کا سراغ لگانے میں ابھی تک ناکام ہیں۔
یاد رہے کہ سیکیورٹی اداروں کو گرفتاری دینے کے بعد26 اپریل 2017 کواپنے اقبالی ویڈیو بیان میں احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کیلئے بھی کام کر رہا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نےگرفتاری کے بعد جیو ٹی وی کے اینکر سلیم صافی کو احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرنے کی خصوصی اجازت دی تھی جس کے دوران اس نے را سے اپنے تعلق کا انکشاف کیا تھا۔
حیرت انگیز طور پر آرمی پبلک سکول پشاور پرحملے میں 135 سے زائد معصوم بچوں اور اساتذہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کا ٹرائل کرنے کی بجائے اس کو ایک سیف ہاؤس میں باعزت طریقے سے ریاستی مہمان کی طرح رکھا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اپریل 2017 میں احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا تھا جس کا اعلان افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 17 اپریل 2017 کو کیا تھا۔
16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے اندر قتل عام کرتے ہوئے سکول کے طلبا اور پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150 افراد کو شہید کردیا تھا۔ سانحہ اے پی ایس کے فوراً بعد احسان اللہ احسان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کا مقصد طالبان دشمنوں کی اگلی نسل کو جہنم واصل کرنا تھا جس میں ہم کامیاب رہے۔
احسان اللہ حسان کی گرفتاری کے بعد سیکیورٹی اداروں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس کا کورٹ مارشل کیا جائے گا اور جلد از جلد نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ تاہم بعد میں یہ اطلاعات آئیں کہ سکیورٹی اداروں نے احسان اللہ احسان کے وعدہ معاف گواہ بننے پر اس کی جان بخشی کر دی ہے۔ ان افواہوں کو تقویت تب ملی جب احسان اللہ احسان کی مبینہ جان بخشی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس کی آخری سماعت 21 اپریل 2018 کو ہوئی۔ دوران سماعت سیکیورٹی اداروں نے موقف اختیار کیا کہ احسان اللہ احسان سے ابھی تک تفتیش جاری ہے جس کے مکمل ہونے پر اسے فوجی عدالت میں ٹرائل کیلئے پیش کردیا جائے گا۔ تاہم احسان اللہ احسان کی گرفتاری کے 33 ماہ بعد بھی نہ تو اس سے تفتیش مکمل ہو سکی اور نہ ہی اس کا ٹرائل شروع کیا گیا۔ اور پھر 11 جنوری 2020 کی رات وہ یا تو فرار ہوگیا یا اسے فرار کروا دیا گیا۔ یاد رہے کہ میجر جنرل آصف غفور نے 17اپریل 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ بعدازاں پاک فوج نے احسان اللہ احسان کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں اس نے ٹی ٹی پی کے بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغانستان کی ’این ڈی ایس‘ سے روابط کا انکشاف کرنے کے علاوہ یہ بھی بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم اسرائیل سے بھی مدد لینے کے لیے تیارتھی۔
مہمند ایجنسی کا رہنے والا یہ درندہ جو طالبان اور جماعت الحرار کا ترجمان تھا اس کا اصل نام لیاقت علی ہے لیکن دہشتگردوں کی دنیا میں یہ ’’احسان اللہ احسان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا احسان اللہ احسان واقعی بھاگا ہے یا اس کو بھگایا گیا ہے؟
