بی آئی ایس پی : سرکاری ملازمین کے غبن پر ایف آئی اے سندھ متحرک

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سندھ چیپٹر نے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں سرکاری ملازمین کے مبینہ غبن کے معاملے پر سرکاری افسران اور ان کے اہلخانہ کے خلاف باقاعدہ تحقیقات آغاز کردیا۔
تفصیلات کے مطابق بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سرکاری ملازمین کے مبینہ غبن کے معاملے پر ایف آئی اے سندھ نے 50 سرکاری افسران اور ان کے 850 رشتے داروں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ سلطان علی خواجہ نے اس سلسلے میں ایک افسر کو انکوائری افسر مقرر کردیا ہے جب کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام نے اسلام آباد میں تفتیشی افسر کو فہرست فراہم کردی ہے جو ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ کو پیش کردی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ہر صوبہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر ایک ایک انکوائری رجسٹرڈ کرے گا، اس ضمن میں ایف آئی اے سندھ نے ایک انکوائری باقاعدہ رجسٹر کردی ہے۔ جن افسران کی فہرست ایف آئی اے سندھ کو دی گئی ہے ان تمام کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے احساس پروگرام ثانیہ نشتر نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد کو نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی سے نکالے گئے افراد 2011 سے مستحق افراد کا حق کھا رہے تھے۔ بی آئی ایس پی سے نکالے گئے افراد کی فہرست کے ذریعے انکشاف ہوا تھا کہ نکالے جانے والوں میں اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل تھے۔
دستاویزات کے مطابق چاروں صوبوں اور وفاق سے اعلیٰ سرکاری افسران بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھاتے رہے۔
جب کہ حکومت کے اس فیصلے کو پیپلز پارٹی کی قیادت نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ تو غریبوں سے ان کا حق بھی چھین رہے ہیں۔
