صدر ٹرمپ کا ایران پر آبنائے ہرمز میں ڈرون حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

 

 

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ ڈرون حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیاکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر چار خودکش ڈرون حملے کیے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان میں سے ایک ڈرون ایک بڑے اور انتہائی مہنگے مال بردار جہاز کے اوپری حصے سے ٹکرایا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنےمیں کامیاب رہا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ باقی تین خودکش ڈرونز کو امریکی افواج نے فضا ہی میں تباہ کردیا۔یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی واضح اور احمقانہ خلاف ورزی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق عمان کے قریب آبنائے ہرمز میں سنگاپور کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا، تاہم جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کےبعد بعض تجارتی جہازوں نے احتیاطاً اپنی نقل و حرکت محدود کردی،تاہم کچھ دیر بعد بحری ٹریفک معمول پر آنا شروع ہوگئی۔

دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا اس کا حق ہے۔ایران نے خلیجی ممالک پر بھی زوردیا ہےکہ وہ امریکا کے ساتھ ایسے اقدامات میں تعاون نہ کریں جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔

پڑوسی ممالک کی فضائی حدود کے استعمال پر ایران کی اسرائیل کو وارننگ

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ایک مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی تھی اور دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔تاہم آبنائے ہرمز میں پیش آنےوالے اس تازہ واقعے نے جنگ بندی کی پائیداری پر نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں جب کہ خلیجی ممالک بھی ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

 

Back to top button