احسان اللہ احسان کیسے محافظوں کو ماموں بنا کر فرار ہوا؟

پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری لینے والا تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے ایک آڈیو بیان میں اپنے ’فرار‘ کے دعوے پر جہاں پاکستان سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے وہیں حکومتی وزرا بھی اس بارے میں بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ تاہم یہ اطلاع ضرور سامنے آئی ہے کہ احسان اللہ احسان فوجی حکام کی اجازت سے ایک انتہائی مطلوب طالبان دہشتگرد کی گرفتاری کے لیے بنائے جانے والے انٹیلی جنس آپریشن کے بہانے اپنے سیف ہاؤس سے خاندان سمیت نکلا اور پھر ریاستی اداروں کو ماموں بناتے ہوئے فرار ہوگیا۔
احسان اللہ احسان نے 2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیاتھا، وہ کوئی عام قیدی نہ تھا چونکہ وہ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کی قاتل تنظیم کا ترجمان تھا، ایسے شخص کا اتنی آسانی سے فرار سکیورٹی فورسز کے کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق حکومت اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہ ہونا بھی انہونی بات ہے، دوسری طرف احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے کے بارے میں وزیر داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا یے کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان کسی حکومتی ایجنسی کی تحویل میں نہیں تھا بلکہ ریاستی ایجنسیوں کے پاس تھا۔اس سنگین معاملے پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ ’جیسے سب نے اس بارے سنا ہے ویسے ہی میں نے بھی سنا ہے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر احسان اللہ احسان کا ایک آڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں اس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ احسان اللہ احسان بھاگا کیسے اور گیا کہاں۔ انگریزی اخبار دی نیوز نے دعوی کیا ہے کہ وہ پاکستان سے فرار ہو کر ترکی پہنچ چکا ہے جہاں سے اس نے اخبار کے نمائندے سے رابطہ کرکے اپنی لوکیشن بتائی ہے۔ فوجی ذرائع نے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور موقف دیا یے کہ وہ ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔
پاکستان میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں طالبان قیدی بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کے بعد بھی حکومت نے مناسب اقدامات کیوں نہیں کیے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ ‘پہلے بنوں جیل کو توڑا گیا، کراچی جیل سے بھی قیدی بھاگے اور اب تو ایک نامی گرامی دہشت گرد، جس کے ہاتھ پر ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون ہے، وہ جی ایچ کیو کی حراست سے بھاگ گیا۔ مجھے ڈر ہے کہ خطے اور پختون علاقوں میں کوئی بڑا گیم ہونے والا ہے، جس میں ایک بار پھر تباہی ہمارے علاقوں کی ہو گی۔‘
سینئر صحافی عباس ناصر نے ٹوئٹر پر سینئیر اینکر پرسن کامران خان کی ٹویٹ کی ہوئی تصویر کو دوبارہ ٹویٹ کیا ہے جس میں آئی ایس آئی کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر رہے ہیں، عباس ناصر نے ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ احسان اللہ احسان کے ‘فرار’ ہونے کے بارے میں فیض کو دھچکا لگا ہے۔
اسی طرح صحافی اور اینکرپرسن ضرار کھوڑو نے اس بارے میں متعدد ٹویٹس کیں جن میں انہوں نے احسان اللہ احسان کے ’فرار‘ سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یاد رکھیں ہمارا دشمن احسان اللہ احسان نہیں۔ فرار کے وہ ذمہ دار نہیں جن کی حراست سے وہ فرار ہوگیا۔ آپ میں سے اصل دشمن وہ لوگ ہیں جو اس فرار پر سوال کرتے ہیں اور جواب طلب کرتے ہیں۔ وہی اصل غدار ہیں۔‘
اینکر پرسن عنبر شمسی نے اس معاملے پر ٹویٹ کیا کہ اس ممکنہ ’فرار‘ یا ’رہائی‘ کی خبروں پر غم و غصہ پایا جاتا ہے، میڈیا پر اس حوالے سے جواب دہی کے سخت مطالبات سامنے آتے ہیں۔ خاموشی کا مطلب بھی جرم ہوتا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے اس بارے میں لکھا کہ ’بڑے پیمانے پر قتل و غارت کرنے والا احسان اللہ احسان، کبھی بھی جیل میں نہیں تھا، نہ ہی اس پر کوئی الزام لگایا گیا تھا نہ ہی اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔۔۔ وہ ریاستی مہمان تھا۔ معاہدے کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ متاثرہ خاندانوں کی توہین کےلیے اس کا میڈیا پر انٹرویو کیا گیا۔ دہشت گردی کے الزامات، جیلیں امن کے حامی پختونوں کےلیے ہیں۔‘
احسان اللہ احسان کے فرار پر اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنانے والوں میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فرار نے ایک نہیں بلکہ کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ”ہمیں اس فرار پر بہت تشویش ہے اور سوال یہ ہے کہ وہ اتنے ہائی سکیورٹی زون سے کیسے فرار ہوا ؟ ساری جماعتوں کے مطالبے کے باوجود احسان اللہ احسان پر مقدمہ چلا کر اسے سزا کیوں نہیں دی گئی؟ اس مسئلے پر خاموشی کیوں ہے؟ کیا خطے میں کوئی نیا گیم ہونے جارہا ہے؟ ہماری پارٹی اس مسئلے پر اجلاس بلائے گی اور فیصلہ کرے گی کہ اسے پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے یا نہیں؟۔
دوسری طرف اطلاعات یہ ہیں کہ احسان اللہ احسان پچھلے تین سال سے طالبان کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے پاکستانی اداروں کی مدد کر رہا تھا اور اس کا فرار بھی ایسی ہی ایک انٹیلیجنس کارروائی کے دوران ممکن ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ احسان نے سکیورٹی فورسز کو چکمہ دینے کےلیے پہلے بہانے سے اپنی فیملی کو اپنے ساتھ سیف ہاؤس میں شفٹ کروایا۔ اس کے بعد اس نے ایک نیا بہانہ بنایا کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں ایک مطلوب ترین دہشتگرد کے ٹھکانے پر اپنی فیملی کے ساتھ ملنے کے بہانے جائے گا جس سے اسے گرفتار کرنے میں آسانی رہےگی ، تاہم احسان اللہ احسان اس مقام پر پہچنے کے بعد وہاں سے فرار ہوگیا۔
یاد رہے کہ احسان اللہ احسان کا اصلی نام لیاقت علی ہے اور وہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان تھا۔ کئی برس تک ٹی ٹی پی سے وابستہ رہنے کے بعد ان کے اس تنظیم کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ جماعت الاحرار کے نام سے الگ ہونے والے دھڑے کا ترجمان بن گیا۔ ماضی میں احسان پاکستان میں مختلف دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرچکا ہے۔ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے اور نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری بھی احسان اللہ احسان نے قبول کی تھی۔
2017 میں اس کی گرفتاری کے بعد پاک فوج کے ترجمان کے جانب سے یہ بیان سامنے آ گیا تھا کہ احسان اللہ احسان نے خود کو پاکستانی سکیورٹی اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ایوان بالا میں یہ کہا گیا تھا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف ملٹری کورٹ میں کارروائی ہوگی۔
اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ بھی سامنے آیا تھا کہ احسان اللہ احسان پر عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس وقت ریاستی اداروں کا یہ موقف تھا کہ تفتیش مکمل ہوتے ہی احسان اللہ احسان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز کردیا جائے گا۔
تاہم ریاستی اداروں نے احسان اللہ احسان کے ساتھ بعد ازاں جو معاہدہ کیا اس کی رو سے اس کےلیے عام معافی کا وعدہ تھا اور یہ بھی کہ اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔ احسان کا موقف ہے کہ وہ قید سے اس لیے فرار ہوا کہ ریاستی اداروں نے اس کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔
