احسان اللہ احسان کے فرار پر توہین عدالت کی درخواست دائر

2014 میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) سانحے میں شہید ہونے والے طالب علم کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں ریاستی اداروں کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزار ایڈووکیٹ فضل خان نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان کو مبینہ طور پر رہا کرنے کے منصوبے کے خلاف دائر کی گئی گزشتہ درخواست پر انہیں دیے گئے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کی درخواست میں سینئر حکومتی اور سیکیورٹی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 6 فروری کو احسان اللہ احسان کا آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہوچکے ہیں۔
ٹی ٹی پی ترجمان کا گرفتاری دینے سے قبل تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق تھا۔25 اپریل 2018 کو ہائی کورٹ کے بینچ نے فضل خان کی گزشتہ درخواست کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل مسرت اللہ خان کی عدالت کو یقین دہانی کے بعد اسے نپٹا دیا تھا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت کا احسان اللہ احسان کو رہا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ ابھی تفتیش کاروں کے پاس ہیں اور ان کا فوجی عدالت میں ٹرائل کیا جائے گا۔عدالت نے اس وقت احکامات جاری کیے تھے کہ احسان اللہ احسان کو ان کا ٹرائل مکمل ہونے سے قبل رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے صاحبزادہ عمر خان اے پی ایس کے ان 148 طالب علموں اور اساتذہ میں سے تھے جو 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت سے وہ صوبے کے سب سے تاریک دن میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ کسی اور بچے کے والدین کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے’۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی نے حملے کے اگلے ہی روز اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی اور حملے کے تقریباً 3 سال بعد مرکزی ملزم احسان اللہ احسان نے گرفتاری دی یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں کچھ امید ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے حیرت ہے کہ ایجنسیوں نے احسان اللہ احسان کے حوالے سے تصویر پیش کی کہ انہیں کچھ معلوم نہیں تھا یا معصوم تھے یا ان کا برین واش کیا گیا تھا اور انہوں نے نادانستہ طور پر صوبے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا’۔
فضل خان نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جس پر فریقین نے بیان دیا تھا کہ دہشت گرد احسان اللہ احسان کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوگا اور ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ‘اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ احسان اللہ احسان کا ٹرائل کیے جانے کے بجائے انہیں عالیشان گھر دیا گیا تھا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کو احکامات جاری کیے گئے کافی وقت گزر چکا ہے تاہم بدقسمتی سے فریقین نے اپنی نا اہلی سے احکامات پر عمل در آمد نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button