احسان اللہ احسان کے فرار پر ریاستی اداروں کی جوابدہی

حکومت اور مفرور طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کے مابین ایک خفیہ معاہدہ منظرعام پر آنے کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے ملزم کے پراسرار انداز میں سکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے جسکے بعد ریاستی ادارے مشکل میں نظر آتے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کیخلاف پشاور ہائی کورٹ کے وکیل اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رکن فضل خان کی طرف سے دائر درخواست پر27 فروری کو سماعت کی۔ یاد رہے کہ فضل خان پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں مارے جانے والے بچوں میں شامل صاحبزادہ عمر خان کے والد بھی ہیں۔ عدالت کی جانب سے کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل کو طلب کیا گیا تھا اور وفاقی اور اب انکے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔
حکومتی نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ احسان اللہ احسان نے 2017 میں سیکیورٹی اداروں کے سامنے سرنڈرکیا تھا اور وہ پچھلے تین سال سے ان کی تحویل میں تھا۔ تاہم، جنوری 2020 کے دوسرے ہفتے میں وہ سکیورٹی اداروں کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا۔
فرار کے بعد ٹوئٹر پر احسان اللہ احسان نے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ وہ پاکستانی اداروں کے تحویل سے فرار ہوگیا ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ساتھ گرفتاری سے پہلے کیے جانے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ احسان اللہ احسان نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ جلد ہی سکیورٹی اداروں اور اپنے مابین طے پائے جانے والے معاہدے کو منظر عام پر لے آئے گا اور پھر یہ معاہدہ بھی منظر عام پر آگیا جس کے مطابق احسان اللہ احسان نے 2017 میں حکام کیساتھ معاملات طے کرنے کے بعد مشروط طور پر خود کو سرنڈر کیا تھا۔
طے شدہ معاہدے کی رو سے احسان اللہ کے خلاف درج شدہ قتل اور دہشت گردی کے تمام تر مقدمات ختم ہو جانے تھے اور اسے اپنے خاندان کے ساتھ بقیہ زندگی اچھے طریقے سے بسر کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے بھی قسطوں میں ادا کیے جانے تھے۔ معاہدے میں حکومت پاکستان کو فریق اول قرار دیا گیا ہے جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو فریق دوئم قراردیا گیا ہے. معاہدے میں احسان اللہ احسان کا پورا نام لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان اور ولدیت شیر افضل قوم صافی درج کی گئی ہے جبکہ احسان کو تحریک طالبان جماعت الاحرار کا سابقہ ترجمان قرار دیتے ہوئے اس کی سکونت ساگی بالا تحصیل صافی مہمند ایجنسی لکھی گئی ہے.
مبینہ معاہدے کے مطابق احسان اللہ احسان کو حکومت کی جانب سے پابند کیا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈالے گا اور پاکستان کے قانون اور آئین کی پاسداری کا وعدہ کرے گا اور اس بات کی بھی پابندی کرے گا کہ وہ پاکستان کے اندر اور باہر کسی قسم کی تخریبی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور نہ ہی ایسی کسی کارروائی کی حکمت عملی کا حصہ بنے گا. قانون اور آئین کی پاسداری کرنے اور پر امن رہنے کی شرط پر حکومت پاکستان کی طرف سے احسان اللہ احسان کے خلاف قبائلی علاقہ جات سمیت پورے ملک میں درج مقدمات قانون کے تحت ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی.
WhatsApp Image 2020 02 15 at 4.00.31 PM 1 1
احسان اللہ احسان کو حکام کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ اسے ہتھیار ڈال کر پاکستان آنے پر خوش آمدید کہا جائے گا اور کسی ٹارچر سیل یا جیل میں رکھنے کی بجائے محفوظ جگہ پر رہائش دی جائے گی. معاہدے کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے احسان اللہ احسان کو گاؤں میں اپنا تباہ شدہ گھر دوبارہ تعمیر کروا کر دینے اور زندگی گزارنے کیلئے ایک کروڑ روپے اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسکے علاوہ احسان پر موبائل فون یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی عائد نہ کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔
پشاور آرمی پبلک سکول کے سانحے میں شہید ہونے والے سو سے زائد طالب علموں کے والدین پہلے ہی یہ الزام لگا رہے تھے کہ احسان اللہ احسان ریاستی اداروں کی حراست سے فرار نہیں ہوا بلکہ اسے فرار کروایا گیا ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے مطلوب ترین طالبان دہشتگرد کے فرار پر مسلسل حکومتی خاموشی کے بعد دسمبر 2014 کے پشاور آرمی پبلک سکول سانحہ میں شہید طالب علموں کے والدین نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے فرار کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تا کہ پتہ چل سکے کہ کیا وہ واقعی فرار ہوا یا اسے کسی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا؟
پشاور ہائی کورٹ میں کیس دائر کرنے والے مرکزی پٹیشنر فضل خان کے مطابق اب عدالت نے اس فرار بارے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ انکا موقف ہے کہ درخواست گزار کو اس واقعے کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کروانے دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ چاہا کہ احسان جس تنظیم سے بھی تعلق رکھتا ہے ، اس نے آرمی پبلک سکول سانحے کی ذمہ داری قبول کی تھی، لہٰذا اس کو سزا ملنی چاہیے اور ہم اس مطالبے ہر قائم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button