احسان اللہ کی دھمکی پر ملالہ کا فوجی ترجمان سے سوال

سیکیورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہو جانے والے تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پر ایک دھمکی آمیز پیغام میں ملک واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے کہ ملالہ پاکستان میں طالبان کے ایک حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں اور احسان اللہ احسان سکیورٹی اداروں کے ایک سیف ہاؤس سے فرار ہونے کے بعد مبینہ طور پر ترکی میں قیام پذیر ہے۔ تاہم الزام عائد کیا جاتا ہے کہ احسان اللہ احسان فرار نہیں ہوا تھا بلکہ اس کو حکام نے ایک ڈیل کے تحت بھاگنے کا موقع دیا گیا۔
احسان اللہ احسان کی اس دھمکی آمیز ٹویٹ کے جواب میں ملالہ یوسفزئی نے لکھا: ’یہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان ہیں جو مجھ پر اور دوسرے معصوم لوگوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اب وہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکی دے رہے ہیں۔‘
ملالہ نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا: ’سوال یہ یے کہ موصوف کیسے فرار ہوئے؟‘ واضح رہے کہ گذشتہ برس احسان اللہ احسان نے پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے کے دعوے سے متعلق ایک آڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے احسان اللہ احسان کے ملک سے فرار ہونے سے متعلق خبروں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اور اسے گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ چونکہ احسان اللہ احسان نے پشاور میں 2014 میں تحریک طالبان کے ہاتھوں 100 سے زائد معصوم طلباء و طالبات کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی اس لیے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کے فرار کا نوٹس لیا تھا لیکن احسان دوبارہ گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
پچھلے برس اپنے خاندان سمیت پشاور کے ایک سیف ہاوس سے بیرون ملک فرار ہو جانے والے احسان اللہ احسان نے ملالہ کے بی بی سی کو دیے گے ایک حالیہ انٹرویو کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے اپنا دھمکی آمیز پیغام ٹویٹ کیا ہے۔ اس انٹرویو میں ملالہ نے اہنے آبائی علاقے سوات کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘سوات ہمیشہ میرا پہلا گھر ہے اور وہ مجھے اپنی جان سے بھی ذیادہ عزیز ہے۔’
بات یہاں ختم نہیں ہوئی اور ملالہ کی ٹویٹ کے جواب میں احسان اللہ احسان نے لکھا: ’آپ جن لوگوں سے جواب مانگ رہی ہیں انکے پاس کوئی جواب نہیں۔ اگر آپ چاہتی ہیں تو میں اپنے فرار کی کہانی سنانے کو تیار ہوں۔ یاد رکھیں میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور عمران خان کی طرح جھوٹ نہیں بولتا۔‘
ایک صارف نے ملالہ یوسفزئی کی ٹویٹ پر لکھا: ’احسان اللہ احسان کھلے عام ملالہ کو دھمکی دے رہا ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ اس نے لکھا کہ ایسے شخص کا اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دینا چاہیے اور ملالہ اپنا ضرورت سے زیادہ خیال رکھیں۔ اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں، جو ملک میں کہیں بھی امن، خوشی اور استحکام نہیں دیکھ سکتے۔‘
زویا طارق نامی صارف نے لکھا: ’گھر وہاں ہوتا ہے جہاں آپ کا دل ہوتا ہے اور آپ کا دل ابھی بھی سوات میں ہے۔ محفوظ رہیں۔‘ ایک اور صارف نے ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے سابق ترجمان کا ٹویٹ کرنا اور آپ کو ایک پبلک پلیٹ فارم پر دھمکی دینا بڑی حد تک پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔ لیکن آپ ایک مضبوط اور بہادر خاتاون ہیں اور آپ کو ڈٹ کر رہنا چاہئے۔‘
یاد رہے کہ گذشتہ برس احسان اللہ احسان نے پاکستانی فوج کی حراست سے فرار ہونے کے بعد ایک آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے اپنے خاندان سمیت فرار ہوئے 24 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ان لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں جو اُس کی حفاظت کر رہے تھے۔ احسان نے بتایا کہ جب اس نے متعلقہ فوجی افسر کو اپنے فرار کے حوالے سے آگاہ کیا تو وہ اس کی منتیں کرنے لگا کہ واپس آ جاؤ۔ لیکن میں نے اس کو اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے حوالے سے یاد دہانی کروائی اور واپسی سے انکار کر دیا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے دو برس تک احسان اللہ احسان فوج کی تحویل میں تھا اور فوجی حکام کے مطابق اس نے خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا۔ تاہم اپنے فرار کے بعد احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک معاہدے کے بعد خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا جس کے تحت اس کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہیں چلنا تھا اور اس کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے کروڑوں روپے بھی ادا کیے جانے تھے۔ لیکن اسکا دعوی یے کہ بعد میں متعلقہ حکام اپنے وعدوں سے پھر گئے اس لیے وہ بھی فرار ہو گیا۔
گذشتہ برس احسان اللہ احسان کے بارے میں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھی کہ وہ اس وقت ترکی میں ہیں تاہم اس بارے میں وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ترکی کے متعقلہ حکام سے اس ضمن میں رابطہ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 2012 میں سوات میں ملالہ یوسف زئی پر جو قاتلانہ حملہ ہوا تھا اس کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی اور اب آٹھ برس بعد احسان اللہ احسان نے دوبارہ سے ملالہ کو دھمکی دے دی ہے۔ ملالہ کا جرم یہ تھا کہ وہ لڑکیوں کے سکول جانے کو ضروری قرسر دیتی تھیں ۔
ملالہ یوسفزئی کو اکتوبر 2012 میں طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد علاج کے لیے انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد حصولِ تعلیم کے لیے وہیں مقیم ہیں۔ ملالہ یوسفزئی خود ہر ہونے والے حملے کے ساڑھے پانچ برس بعد 2018 میں پاکستان آئی تھیں اور اس دوران انھوں نے اپنے آبائی علاقے سوات میں اپنے گھر کا دورہ بھی کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button