احمد نورانی اور عنبرین فاطمہ کا راہیں جدا کرنے کا فیصلہ
حال ہی میں لاہور میں نامعلوم افراد کے حملے کا شکار ہونے والی خاتون صحافی عنبرین فاطمہ نے معروف تحقیقاتی صحافی احمد نورانی سے اپنی راہیں جدا کرتے ہوئے خلع لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے احمد نورانی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عنبرین فاطمہ اب ان کی اہلیہ نہیں رہیں اور انکی طلاق ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ نورانی امریکہ میں مقیم ہیں۔ لیکن دوسری جانب عنبرین کا مؤقف تھا کہ وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور اب تک احمد نورانی کے نکاح میں تھیں لیکن انکے حالیہ بیان کے بعد انہوں نے خلع کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مجھے طلاق ہو چکی ہوتی تو میں خلع کا دعویٰ کیوں دائر کرتی؟
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دونوں صحافیوں کا ازدواجی مسئلہ تب سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا جب نورانی کی دوسری اہلیہ اور بچوں پر لاہور میں نامعلوم افراد کی جانب سے حملہ ہوا جس میں ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین توڑ دی گئی۔ کیونکہ حملے سے چند ہی روز پہلے احمد نورانی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک آڈیو ٹیپ جاری کی تھی اس لئے یہ خیال کیا گیا کہ شاید حملہ آوروں کا اس خبر کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ لیکن اس واقعے پر احمد نورانی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کچھ میڈیا کے افراد اور دوست لاہور میں پیش آنے والے واقع کو میری خبر کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، مگر اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘
انڈیپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے جب 27 نومبر کو نورانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ’عنبرین اب میری اہلیہ نہیں ہیں۔‘ انہوں نے یہ مؤقف پیش کیا کہ ‘عنبرین کی طرف سے طلاق کے لیے مسلسل تحریری اصرار پر اس سال کے اوائل میں ہمارے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔‘
جب انڈیپینڈینٹ اردو نے احمد نورانی سے سوال کیا کہ کیا آپ کی طلاق دستاویزی ہے تو ان کا کہنا تھا ’بالکل، ہماری تحریری طور پر طلاق ہے اور نادرا میں رجسٹرڈ ہے۔‘
بعد ازاں احمد نورانی نے 30 نومبر کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر نہ کچھ لکھا ہے اور نہ ہی لکھوں گا۔ میں نے اس حوالے سے کبھی کسی کو فون نہیں کیا، ہاں صحافیوں نے خود کالز کر کے سوالات پوچھے تو میں نے جواب ضرور دیے۔ مجھے آئندہ بھی کوئی فون یا ای میل پر پوچھےگا تو ضرور جواب دوں گا کیونکہ میں خود کو جوابدہ سمجھتاہوں۔‘
تاکم 30 نومبر کو ہی عنبرین فاطمہ نے اپنی ٹویٹ میں خلع کا دعوی دائر کرنے کی ایک دستاویز شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’طلاق کے حوالے سے کبھی نہ تین حرف بولے گے اور نہ کوئی پیپر بھیجا گیا۔ نکاح میں ہونے کے باوجود کہا گیا کہ مجھے طلاق دے دی گئی ہے اور باقاعدہ یہ چیز اسٹیبلش کی گئی اور وہ بھی بغیر طلاق کے پیپر دکھائے،۔لہذا اس ذلت کے بعد میرے لیے اس رشتے میں رہنا نا ممکن ہو گیا تھا چنانچہ میں ’خلع‘ کادعوی دائر کرنے پر مجبور ہوگئی اور دعوی دائر کر دیا۔‘
عنبرین فاطمہ نے کہا کہ وہ آج دن تک احمد نورانی کی اہلیہ ہیں اور انہیں نورانی نے کبھی طلاق نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر احمد کے پاس طلاق کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے تو اس سے سامنے لائیں۔ انہوں نے بتایا کہ نورانی کے امریکہ جانے کے بعد سے ان کی آپس میں بات نہیں ہوتی مگر وہ اب بھی ان کے نکاح میں ہیں۔ عنبرین کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اختلافات رہے ہیں مگر میں نے کبھی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کوئی بات شئیر نہیں کی کیوں کہ میں اب تک ان کے نکاح میں ہوں۔‘ اپنی جانب سے طلاق دینے کے اصرار کے الزام پر ان کا کہنا تھا ’احمد نورانی نہ میرے ساتھ رابطے میں ہیں اور نہ ہی انہوں نے مجھے بیوی والے حقوق دیے اس لیے میں نے تنگ آ کر انہیں لکھا کہ مجھے عزت سے رکھیں ورنہ طلاق دے دیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے پاکستان کو مسائلستان کیسے بنایا؟
عنبرین فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’اگر نورانی نے مجھے طلاق دی ہے تو اس کی دستاویز پیش کریں۔‘ جب عنبرین کو بتایا گیا کہ نورانی کا تو یہ موقف ہے کہ وہ انہیں باقاعدہ طلاق دے چکے ہیں اور طلاق تحریری طور پر ہوئی ہے تو
عنبرین فاطمہ نے انڈیپنڈنٹ اردو کو نادرا کا تصدیق شدہ ریکارڈ فراہم خر دیا جس کے مطابق وہ اب بھی نورانی کی اہلیہ ہیں۔ بعد ازاں انڈپینڈنٹ اردو نے عنبرین فاطمہ کی اجازت سے خود بھی نادرا سے آزادانہ طور پر ڈیٹا چیک کیا جس میں وہ اب بھی احمد نورانی کی اہلیہ کے طور پر درج ہیں۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق عنبرین فاطمہ اس وقت محمد احمد نورانی ولد بشیر احمد سعیدی کی زوجہ ہیں۔ نادرا کی جانب سے سال 2020 میں بنائے گے نورانی کے شناختی کارڈ ریکارڈ کے مطابق عنبرین فاطمہ ان کی دودری اہلیہ ہیں جبکہ پہلی اہلیہ کا نام بھی اس میں درج ہے۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق عنبرین فاطمہ کی نورانی سے شادی 30 جون 2018 کو ہوئی تھی۔ احمد نورانی کی پہلی شادی سے ایک بچہ ہے جبکہ دوسری شادی سے دو بچے ہیں۔
