انوشے اشرف کی کمر پر کس شخص نے ہاتھ پھیر دیا؟


معروف ماڈل اور اداکارہ انوشے اشرف نے ایک کولیگ کی جانب سے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر تصویر بنوانے کی کوشش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ آئندہ ایسی حرکت سے پرہیز کیا جائے کیونکہ دوست اور کولیگ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انوشے کی اس بات سے یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ اگر اگر ان کا کوئی دوست ان کی کمر پر ہاتھ پھیر دے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن کسی کولیگ کو اس عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اداکارہ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں نام لیے بغیر اپنے ساتھ کام کرنے والے شخص کے رویے پر برہمی کا اظہار تو کیا لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے ساتھ کس آدمی نے غلط حرکت کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انوشے کو اس بدتہذیب شخص کا نام لینا چاہیے تھا کیونکہ اب ان کے ساتھ کام کرنے والا ہر شخص ہی مشکوک ہو گیا ہے۔ یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ انہیں اظہار برہمی کرنے کے لیے ٹویٹ کیوں کرنا پڑی؟ کیا انہوں نے یہ حرکت کرنے والے شخص کو منہ پر جواب نہیں دیا تھا اور منع نہیں کیا تھا؟ ان کی ٹوئٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے کسی ’کلیگ‘ نے کسی محفل میں ان کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سیلفی بنانے کی کوشش کی، جو انہیں بری لگی اعر جس پر انہوں نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
انوشے اشرف نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’کسی بھی شخص کے ساتھ کام کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس کی ’بے بی‘ بن گئی ہیں۔ اداکارہ نے لکھا کہ ساتھ کام کرنے والے افراد کو ’ساتھی‘ اور ’دوست‘ کے فرق کو سمجھنا ہوگا اور انہیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ آج کے دور میں ذاتی پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ انکے کسی۔کولیگ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انہیں اپنا دوست یا ’بے بی‘ سمجھ کر کسی محفل میں ان کی ’کمر‘ پر ہاتھ رکھ کر ان کے ساتھ سیلفی بنوائے۔ یہ سراسر بدتہذیبی اور ذیادتی ہے۔
لیکن انوشے اشرف یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ ان کی ’کمر‘ پر ہاتھ رکھنے والا کون تھا۔ اداکارہ کی اس مبہم ٹوئٹ کو متعدد افراد نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس شخص کا نام لکھیں ورنہ تو ان کے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص پر شک ہو سکتا ہے۔
انوشے کی ٹوئٹ کو معروف وکیل اور ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا عمل تو کوئی دوست بھی نہیں کرتا جب تک کہ دونوں ’رضامند‘ نہ ہوں اور لوگوں کو اس مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ان کی طرح دیگر افراد نے بھی انوشے کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’دوست کو بھی ایسا کرنے کا حق نہیں پہنچتا اور ایسا کرنے کے لیے ’رضامندی‘ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یاد رہے کہنانوشے اشرف اکثر سوشل میڈیا پر متحرک رہتی ہیں، اور اپنے ساتھ ہونے والے مسائل سمیت خواتین کو درپیش مشکلات اور سماجی مسئلوں پر بھی کھل کر بات کرتی رہتی ہیں۔ اداکارہ جانوروں کے حقوق سے متعلق بھی کھل کر بیان دیتی رہتی ہیں اور بعض مرتبہ انہیں آواز بلند کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔

Back to top button