اداکار بابرعلی کے گھر کے باہر لوگوں کی قطار کیوں لگتی تھیں؟

معروف فلم و ڈرامہ سٹار بابرعلی نے انکشاف کیا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ میں بطور ہیرو 80 فلمیں کیا کرتا تھا لیکن پھر وقت نے بازی پلٹی اور ایک حادثے کے دوران میں زخمی ہوگیا جس کے بعد ڈاکٹروں نے بیڈ ریسٹ کا کہا اور میرے ہاتھ سے 60 سے 70 فلمیں نکل گئیں۔بابر علی نے انکشاف کیا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آ چکا ہے کہ جب ان کے گھر کے باہر پیسے واپس لینے کے لیے آنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں، ایک پرانے انٹرویو میں اپنی زندگی کے مشکل وقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت ایسا تھا جب میں بطور ہیرو 80 فلمیں کیا کرتا تھا لیکن پھر مجھے راتوں رات ولن کے لیے کاسٹ کیا جانے لگا۔انہوں نے بتایا ایک رات ایسی آئی جب میرے ہاتھ سے 60 ، 70 فلمیں ایک ساتھ نکل گئیں اور یہ اس وقت ہوا جب کراچی میں گڈانی پر فلم کی شوٹنگ کے دوران جہاز میں حادثہ ہوا اور میں110 فٹ بلندی سے نیچے گرگیا، میرے پاؤں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور جب مجھے ہوش آیا تو مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ میں 6 مہینے کے لیے اب بیڈ سے بھی نہیں اٹھ سکتا پھر جو لوگ مجھے فلموں کے لیے سر آنکھوں پر بٹھا رہے تھے، میرے گھر کے باہر پیسے لینے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے لیکن مجھے ایک بات یاد تھی، میرے والد صاحب کہا کرتے تھے اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا۔بابر علی کا کہنا تھا کہ اور پھر ایسا ہی ہوا، پاؤں میں پلسٹر کا چوتھا روز تھا اور مجھے سید نور کی فلم "مہندی والے ہاتھ”اور خلیل الرحمان کی فلم”گھر کب آؤ گے” کے لیے کال آگئی، انہوں نے مجھے اپنی فلموں کے لیے ولن کے کردار کی آفر کی، اگرچہ اس کردار کو قبول کرنا میرے لیے مشکل تھا کیوں کہ میں انہی اداکاراؤں کے ساتھ بطور ہیرو کام کر چکا تھا لیکن پھر بھی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کی مجھے اس مرحلے پر بھی کامیابی اور عزت عطا فرما۔اداکار بابر علی نےمزید بتایا کہ انہوں نے بطور ولن اتنا معاوضہ لیا جتنا وہ کبھی ہیرو ہوتے ہوئے نہیں لیتے تھے۔

Back to top button