ارباب غلام رحیم کو دوبارہ جوتے کھانے کا ٹاسک مل گیا


ماضی میں پیپلز پارٹی کے ایک جیالے کے ہاتھوں منہ پر جوتا کھانے والے ارباب غلام رحیم کے قریبی ذرائع اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں سندھ کی حکومت الٹانے کا ٹاسک دے دیا ہے اور اسی لیے انہیں وزیر اعظم کا معاون خصوصی برائے سندھ امور مقرر کیا گیا یے۔ تاہم پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ارباب غلام رحیم ایک چلا ہوا پھوکا کارتوس ہے اور اگر اسں نے سندھ حکومت کے خلاف کوئی سازش کی تو جوتے دوبارہ اس کا مقدر ہوں گے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان الیکشنز میں اپنے سرپرستوں کی مدد سے کامیابیاں سمیٹنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کیا واقعی سندھ کی حکومت الٹانے کا بھی کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ارباب غلام رحیم کے قریبی ذرائع کہتے ہیں کہ اس امکان پر غور کیا جا رہا ہے اور لابنگ شروع ہے۔
یاد رہے کہ تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے ارباب غلام رحیم سندھ کے ایک پرانے سیاستدان ہیں جو اپنی سیاسی وفاداریاں بدلنے کے لیے معروف ہیں۔ ارباب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق سمیت تقریباً ہر سیاسی جماعت سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان کا تازہ پڑاؤ تب پی ٹی آئی میں ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کا اگست سے سندھ میں جلسوں کا منصوبہ ہے اور اس سے قبل یہ اہم تعیناتی کی گئی ہے تاکہ سندھ سے مزید نامور سیاسی شخصیات کو پارٹی میں شامل کیا جا سکے اور اسے مضبط بنا کر پیپلزپارٹی سے جان چھروائی جا سکے۔
پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد ارباب غلام رحیم نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں سندھ میں پی ٹی آئی کو منظم کرنے کا ہدف دیا ہے اور آنے والے دنوں میں صوبے سے مزید اچھی خبریں ملیں گی۔ دوسری جانب ایک صوبے کے لیے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا تقرر کئی حلقوں میں باعث حیرت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عام طور پر وفاقی کابینہ میں صوبائی امور کا مشیر یا معاون نہیں رکھا جاتا۔۔تاہم عمران خان اس سے قبل شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی برائے مصالحت اور ہم آہنگی بلوچستان مقرر کر چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ارباب غلام رحیم کا تقرر گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ایما پر کیا گیا ہے تاکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بیدخل کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ سندھ سے ان کی حکومت کو بے دخل کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
یاد رہے کہ ارباب غلام رحیم نے عملی سیاست کا آغاز 1985 میں کیا تھا۔ وہ ڈسٹرکٹ کونسل میرپور خاص کے چیئرمین رہے۔ 1990 میں سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ 1993 میں تھرپارکر سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر ارباب غلام رحیم نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے اتحاد بنایا۔ 2002 کے عام انتخابات میں اسی پلیٹ فارم سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ پھر مسلم لیگ ق میں شامل ہو گئے اور صوبے کے وزیراعلی بن گئے ان کا دور 2008 تک جاری رہا۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر دوبارہ ایم پی اے بنے۔ 2013 کے انتخابات میں بھی ق لیگ سے ایم پی اے بنے، تاہم الیکشن کے بعد سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ارباب غلام رحیم نے اپنی جماعت پیپلز مسلم لیگ کو مسلم لیگ ن میں ضم کر دیا۔ ​2018 کے انتخابات میں انہیں انکے اپنے بھتیجے ارباب لطف اللہ نے ہرا دیا تھا۔ لطف اللہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے اور ارباب غلام رحیم جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے ان کے سامنے تھے۔
سندھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی کامران رضی کے مطابق ‘ارباب غلام رحیم ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور اسٹیبشلمنٹ کے ہمیشہ سے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ جب پرویز مشرف نے شوکت عزیز کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا تو ارباب غلام رحیم نے اپنے عزیز کو تھرپارکر سے استعفیٰ دلوا کر شوکت عزیز کو الیکشن جتوایا تھا۔ کامران کے مطابق ‘ارباب غلام رحیم مذہبی رجحان رکھتے ہیں اور ان کے دور میں معروف مبلغ مولانا طارق جمیل باقاعدہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں آ کر افسران کو لیکچرز دیتے تھے۔ 2008 کے الیکشن کے بعد جب ارباب غلام رحیم حلف اٹھانے کے لیے اسمبلی آئے تو 7 اپریل 2008 کو سندھ اسمبلی کے احاطے میں پیپلز پارٹی کے ایک جیالے آغا جاوید پٹھان نے ان کے منہ پر جُوتا جڑ دیا تھا۔ دو چار دن ہا ہا کار ہوئی پھر سب بھول بھال گئے۔ جوتا گردی کے بعد ارباب غلام رحیم اتنے خوفزدہ ہوئے کہ پاکستان چھوڑ کر دبئی بھاگ گئے اور پھر کئی برس واپس نہ آئے۔
کامران رضی کہتے ہیں کہ ‘ارباب غلام رحیم گذشتہ تین سال سے سیاست میں زیادہ سرگرم نہیں ہیں اور تھرپارکر میں اثر ورسوخ کے باوجود وہ صوبہ سندھ میں بہت زیادہ سیاسی اثر نہیں رکھتے۔ ارباب غلام رحیم کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کے بعد کابینہ کی تعداد بڑھ کر 53 تک پہنچ گئی ہے اور وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی تعداد بڑھ کر 17 ہوگئی ہے۔ اسی طرح وفاقی کابینہ میں غیر منتخب شخصیات کی تعداد بڑھ کر 18 ہوگئی ہے۔ وفاقی وزراء کی تعداد 28 ہے جن میں سے ایک غیر منتخب وفاقی وزیر بھی شامل ہے۔ معاونین خصوصی میں 13 غیر منتخب شخصیات شامل ہیں۔ وزیراعظم کے تمام 4 مشیر بھی غیر منتخب ہیں۔ وفاقی کابینہ میں وزرائے مملکت کی تعداد 4 ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل ہونے کے بعد ارباب غلام رحیم سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا دوبارہ جوتا گردی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

Back to top button