اسامہ بن لادن کو مارنے والے امریکی اہلکار مشکل میں پڑ گئے

اسامہ بن لادن کو مارنے والے امریکی سیلز رابرٹ اونیل مشکل میں پھنس گئے، بغیر ماسک کے سیلفی اپلوڈ کرنے پر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو مارنے والے 44 سالہ امریکی نیوی سیلز رابرٹ اونیل کو بغیر ماسک پہنے طیارے میں سیلفی بنا کر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپلوڈ کرنا مہنگا پڑگیا ہے۔
ائیر لائن کی جانب سے رابرٹ اونیل پر پابندی لگنے کا خدشہ ہے۔ ماسک پہننے کے مخالف رابرٹ اونیل نے اپنے فضائی سفر کے دوران طیارے میں بیٹھ کر بغیر ماسک کے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میں ماسک نہیں پہنوں گا کیو کہ میں بیوقوف نہیں۔ امریکی ائیر لائن ڈیلٹا کا کہنا ہے کہ انہیں علم ہے کہ رابرٹ اونیل نے پالیسی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ رابرٹ اونیل پر آئندہ ائیر لائن سے فضائی سفر کرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ ماسک کے بغیر تصویر اپلوڈ کرنے پر رابرٹ اونیل پر سوشل میڈیا پر بھی تنقید کی گئی۔ سیلز رابرٹ اونیل نے تنقید کے بعد اکاؤنٹ سے تصویر ڈیلٹ کر دی۔ تاہم سیلز رابرٹ اونیل نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ یہ تصویر میں نے نہیں بلکہ میری بیوی نے ڈیلیٹ کی۔
یاد رہے کہ حمزہ بن لادن 1989ءکو پیدا ہوئے تھے۔جب کہ ان کے والد 1996ءکو افغانستان منتقل ہو گئے تھے اور امریکا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ اسامہ بن لادن جو کہ دنیا بھر میں دہشت کی علامت تھا ایک ایسی پہیلی تھا کہ اس کی حقیقت سامنے ہونے کے باوجود بھی ایک افسانوی کردار لگتا ہے اسی لیے اس کی موت بھی ایک معمہ تھی کیوں کہ بظاہر تو امریکی فورسز کے آپریشن میں ایبٹ آباد میں انہیں مار دیاگیا تھا اور ان کی لاش سمندر برد کر دی گئی تھی مگر پس پردہ بہت ساری کہانیاں سننے کوملتی رہیں۔گزشتہ سال اسامہ کے بیٹے حمزہ بن لادن مارے گئے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دینے والے کو 10 لاکھ ڈالر (تقریباً 16 کروڑ پاکستانی روپے) نقد انعام دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ حمزہ نے اپنے والد کی ہلاکت کے بعد امریکا سے بدلہ لینے کی دھمکی بھی دی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button