تاج جویو: ’بیٹے کےلیے رکشہ خرید لیا تھا‘

بیٹے کی ’جبری گمشدگی‘ پر معروف سندھی ادیب تاج جویو نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی لینے سے انکار کیا تھا۔ تاج جویو بطور احتجاج ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کیا تو کچھ دنوں کے بعد ان کے بیٹے کو رہا کر دیا گیا، اس وقت سے تاج جویو اور جبری گمشدگیوں کا ایشو سوشل میڈیا کی ٹام لائنز پر موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔
ٹوئٹر پر تاج جویو کی ایک تازہ ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ایسے ہزار ایوارڈ بھی اگر ملیں گے تو میں پھینک دوں گا۔ جب تک میرے ملک کے بچے جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنتے رہیں گے، میں اور میرے بچے ان کےلیے لڑیں گے۔‘ بیٹے کے حوالے سےبات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’آج مجھے فون کرکے بتایا گیا کہ تمارے بیٹے کا آفس سیل کر دیا گیا ہے اور بہت جلد اس کی نوکری بھی ختم کر دی جائے گی جس کے جواب میں میں نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی کے جہیز کے تین لاکھ روپے سے بیٹے کےلیے پہلے سے رکشہ خرید لیا تھا کیوں کہ جب سے میرے بیٹے کو دھمکیاں ملنے لگیں تھیں میں نے سوچ لیا تھا کہ اب یہی کام کرنا ہوگا اور رزق خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘ تاج جویو کا کہنا تھا کہ ’میرا باپ ایک کسان تھا اور سارنگ جویو ایک کسان کا پوتا ہے وہ کھیتی باڑی بھی کر سکتا ہے، ہل بھی چلا سکتا ہے اور رکشہ بھی۔‘
آج مجھے کال موصول ہوئی کہ آپ کے بچے کا دفتر ہم نےسیل کردیا ہےاور وہ اپنے نوکری سے بھی ہاتھ دھوبیٹھےگا.میں نےجواب دیا کہ میں نے اپنے سکالر بیٹے کے لئے رکشہ لیا ہے اور وہ رکشہ چلا سکتا ہے.کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ یہ دن آنے والے ہیں.صدرارتی ایوارڈیافتہ سارنگ جویو کےوالد کا اظہار خیال pic.twitter.com/8ppgGcOgSH
— Abdullah Momand (@AbdullahMomandJ) August 18, 2020
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر آتے ہی تاج جویو اور ان کے بیٹے سارنگ جویو کے حوالے سے ہونے والی بحث نے پھرسے زور پکڑ لیا ہے جہاں کئی صارفین تاج جویو کے اس فیصلے اور عزم کی تعریف کر رہے ہیں وہیں کئی انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔
ٹوئٹر صارف قصوری نے لکھا کہ ’ہائے ری قسمت! کیسے کیسے ہیرے لوگ پڑے ہیں پر نا قدرے ملک میں!‘
عائشہ صدیقہ نے لکھا کہ ’جویو صاحب زندہ باد ہمارے سب کےلیے یہ لڑائی لڑنے کا شکریہ۔‘
تاج جویو ترقی پسند شاعر اور ادیب ہیں ساتھ ہی وہ سیاسی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، وہ اپنا تعارف جی ایم سید کے پیروکار اور شاگرد کے طور پر کرواتے ہیں۔
ان کے بیٹے سارنگ جویو کراچی کی نجی یونیورسٹی میں بطور ریسرچ ایسوسی ایٹ خدمات انجام دے رہے تھے اور اپنے والد کی طرح وہ بھی سندھ کی عوامی سیاست میں خاصے سرگرم ہیں۔
