اسامہ کا سراغ لگانے والے پاکستانی ڈاکٹر کی حالت نازک


ایبٹ آباد کے کنٹونمنٹ ایریا میں رہائش پذیر القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکی سی آئی اے کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے برے دن ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے. امریکی حکام کے بار بار کے اصرار کے باوجود پاکستانی عسکری حکام اسے کسی قسم کی کوئی ریلیف دینے پر آمادہ نہیں. دوسری جانب اس کے خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ جیل میں شکیل آفریدی کی حالت خراب سے خراب تر ہوتے ہوئے اب نازک ہو چکی یے۔
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں رہائش گاہ کی نشان دہی میں امریکہ کے خفیہ اداروں کی مبینہ مدد کے الزام میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کی صحت اب خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے جبکہ جیل میں اسے مبینہ طور پر علاج کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انکے بھائی اب ساہیوال جیل میں قید ہیں۔ ان کو کئی بیماریوں کا سامنا ہے اور اب تو وہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا سکتے۔ وی سکن الرجی کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر اور دانتوں کے امراض کا شکار بھی یو چکے ہین۔ ڈاکٹر شکیل کے بھائی جمیل آفریدی کے مطابق انہوں نے ساہیوال جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے حکومت وقت سے اپنے بھائی کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس درخواست پر بھی عمل درآمد نہیں ہو پایا۔جمیل نے دعویٰ کیا کہ جیل میں قید شکیل کی زندگی کو شدیع خطرات لاحق ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب قوم پرست سیاسی کارکن زر علی خان آفریدی نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے عالمی اداروں پر ان کی رہائی کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی فورسز نے 2 مئی 2011 کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ایک خفیہ آپریشن میں ہلاک کیا تھا جس کے ایک ماہ بعد شکیل آفریدی کو جون 2011 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں قبائلی علاقوں میں رائج فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت 23 مئی 2012 کو مجموعی طور پر 33 سال قید اور 23 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ کمشنر پشاور ڈویژن نے بعد میں ایک درخواست کو منظور کرتے سزا اور جرمانے میں تخفیف کی تھی۔ سزا۔کم کرنے کے اس فیصلے کے خلاف حکومت نے ایف سی آر ٹربیونل میں اپیل کی تھی جب کہ شکیل آفریدی نے وکیل کے ذریعے ان مقدمات کو ختم کرنے اور اپنی رہائی کی اپیل دائر کی تھی۔
قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اکتوبر 2018 میں دیگر کیسز کے ساتھ ساتھ شکیل آفریدی کا معاملہ بھی پشاور ہائی کورٹ منتقل ہو گیا تھا۔
یاد رہے کہ پشاور کے جس انتظامی کمشنر صاحب زادہ محمد انیس نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے سزا میں تخفیف کی تھی وہ بعد میں 16 اکتوبر 2013 کو اسلام آباد میں ایک فلیٹ میں آگ لگنے کے ایک پراسرار واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عدالت میں شکیل آفریدی کی پیروی کرنے والے وکیل سمیع اللہ آفریدی کو بھی مارچ 2015 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کو بظاہر ایک کالعدم شدت پسند تنظیم ’لشکر اسلام‘ سے منسلک جنگجوؤں کا علاج کرنے کے الزام میں سابقہ ایف سی آر قانون کے تحت گرفتار کرکے سزا دی گئی تھی۔ لیکن دراصل ان پر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی کرنے میں امریکہ کے خفیہ ادارے سے تعاون کرنے کا الزام ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کو استعمال کیا تھا۔شکیل آفریدی کو مئی 2012 میں سزا سنائے جانے کے بعد پشاور جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ البتہ انہیں اگست 2018 میں پنجاب کی ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ اب بھی قید ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ نے اپنا مہرہ ثاقب نثار کیوں قربان کیا؟

جمیل کے مطابق شکیل آفریدی کے ساتھ جیل میں نہایت برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ تاہم انتظامی حکام اس معاملے پر لب کشائی کے لیے تیار نہیں۔ جمیل آفریدی کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی کو قبائلی علاقوں میں رائج قانون ایف سی آر کے تحت گرفتار کیا گیا اور سزا دی گئی لیکن عجیب بات ہے کہ بعد ازاں انہیں وفاقی حکومت کے حوالے کرکے پنجاب کی ساہیوال جیل میں قید کر دیا گیا جو سراسر زیادتی ہے۔ ان کے مطابق ساہیوال جیل میں شکیل آفریدی کے ساتھ ملاقات یا رابطہ کرنا انتہائی مشکل ہے لہذا انہوں نے شکیل آفریدی کو ساہیوال سے پشاور جیل منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا یے۔

Back to top button